زیکا وائرس کے سبب کینیا کی ریو اولمپکس میں شرکت مشکوک

،تصویر کا ذریعہ
کینیا کی اولمپک کمیٹی کے سربراہ نے کہا ہے کہ اگر برازیل میں زیکا وائرس نے وبائی شکل اختیار کر لی تو موسم گرما میں ہونے والے ریو اولمپکس میں کینیا کی شرکت مشکوک ہو جائے گی۔
خیال رہے کہ جنوبی امریکی ممالک میں مچھر سے پیدا ہونے والے امراض کے نتیجے میں بچوں میں پیدائشی نقص دیکھا جا رہا ہے۔
گذشتہ ہفتے صحت کے عالمی ادارے ڈبلیو ايچ او نے زیکا وائرس کو عالمی سطح پر صحت کے لیے خطرہ قرار دیا تھا۔
کینیا میں اولمپکس کے سربراہ کپچوگے کینو نے کہا: ’اگر زیکا وائرس نے وبائی شکل اختیار کر لی تو ہم کینیا کے باشندوں کو خطرے میں نہیں ڈال سکتے۔‘
ادھر برازیل کے حکام کا کہنا ہے کہ جب اگست کے مہینے میں ریو دی جنیرو میں اولمپک کھیل منعقد ہوں گے تو حاملہ خواتین کے علاوہ کھلاڑیوں اور تماشائیوں کو کوئی خطرہ نہیں ہو گا۔
بین الاقوامی اولمپک کمیٹی کا کہنا ہے کہ وہ اولمپکس کے منتظمین کے ساتھ ’بہت قریبی رابطے میں ہیں جبکہ اولمپک منعقد کرنے والے مقامات کی اولمپکس سے قبل اور اس کے دوران روزانہ جانچ پڑتال ہو گی۔‘

،تصویر کا ذریعہAP
خیال رہے کہ گذشتہ سال عالمی ایتھلٹکس مقابلوں میں کینیا تمغے جیتنے والوں میں سرفہرست رہا تھا اور اولمپکس میں اس کی غیر موجودگی شدت کے ساتھ محسوس کی جائے گی کیونکہ کینیائی ایتھلیٹ درمیانی اور طویل فاصلوں کی دوڑ میں دنیا میں سب سے آگے ہیں۔
اس کے علاوہ سٹار ایتھلیٹ ڈیوڈ روڈیشا کو بھی 800 میٹر کی دوڑ میں اپنے اعزاز کے دفاع کا موقع بھی نہیں مل پائے گا۔
کینیا کے کھلاڑیوں نے سنہ 2012 کے لندن اولمپکس میں 11 تمغے حاصل کیے تھے جو سب کے سب ایتھلیٹکس میں تھے۔



