نیمار فراڈ مقدمے میں عدالت میں پیش ہوں گے

،تصویر کا ذریعہGetty
برازیل اور سپین کے بارسلونا فٹبال کے کھلاڑی نیمار بارسلونا کلب میں اپنی ٹرانسفر کے حوالے سے بدعنوانی اور فراڈ کے الزامات کے تحت سپین کی ایک عدالت کو گواہی دیں گے۔
ادھر بارسلونا کلب کے موجودہ اور سابق صدر نے پیر کو میڈرڈ کی ایک عدالت میں نیمار کی ٹرانسفر کے حوالے سے فراڈ کی تردید کی ہے۔
بارسلونا کا کہنا ہے کہ اس نے سنہ 2013 میں نیمار کو پانچ کروڑ 71 لاکھ یورو ادا کیے تھے جس میں چار کروڑ یورو ان کے والدین جبکہ 71 لاکھ یورو برازیل کلب سینٹوس نے وصول کیے تھے۔
تاہم تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ بارسلونا نے نیمار کو پانچ کروڑ 71 لاکھ یورو نہیں بلکہ آٹھ کروڑ، 30 لاکھ یورو ادا کیے تھے اور بارسلونا کلب نے اس معاہدے کے کچھ حصے کو پوشیدہ رکھا تھا۔
برازیل میں سرمایہ کاری کی ایک فرم ڈی آئی ایس اس مقدمے کو سامنے لائی ہے۔
ڈی آئی ایس کے پاس برازیل کے کھلاڑیوں کی ٹرانسفر کے 40 فیصد حقوق ہیں اور اس کا کہنا ہے کہ اسے دھوکہ دہی سے لاکھوں یورو کا نقصان پہنچایا گیا۔
برازیل کے فٹبالر نیمار کے والدین بھی منگل کو میڈریڈ کی نیشنل کورٹ میں پیش ہوئے۔
اطلاعات کے مطابق نیمار کو بارسلونا نے 2013 میں پانچ کروڑ 71 لاکھ یورو کے عوض سائن کیا تھا اور انھوں نے اپنے شاندار کھیل سے بارسلونا کو اس سیزن کی چیمپیئن لیگ اور لالیگا میں کامیابی بھی دلائی تھی۔
23 سالہ نیمار نے سنہ 2015 میں بارسلونا کو پانچ ٹرافیاں جتوانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔



