ٹینس: اینٹی کرپشن کے طریقوں کا آزادانہ جائزہ

،تصویر کا ذریعہ
ٹینس کے مقابلوں میں میچ فکسنگ کے دعوے سامنے آنے کے بعد حکام اپنے اینٹی کرپشن کے طریقوں کا آزادانہ جائزہ لیں گے۔
آسٹریلین اوپن کے مقابلوں کے دوران سامنے آنے والا یہ اعلان بی بی سی اور بزفیڈ نیوز کی تحقیقات کے بعد کیا گیا ہے۔
بی بی سی اور بزفیڈ نیوز کی تحقیقات میں یہ انکشاف کیا گیا تھا کہ گذشتہ دہائی کے دوران ٹینس میں مبینہ طور پر غیر قانونی سے میچ فکس کیے گئے تھے۔
بی بی سی اور بز فيڈ نیوز کو ملنے والی دستاویزات میں روس، شمالی اٹلی اور سسلي میں سٹے باز گروہ کی موجودگی سامنے آئی اور تفتیش کاروں کو ان میچوں کے بارے میں بھی پتہ چلا جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ فکس کیے گئے تھے۔
ان دستاویزات میں دکھایا گیا ہے کہ گذشتہ دس سالوں کے دوران 50 بہترین کھلاڑیوں کی فہرست میں 16 کھلاڑی ایسے شامل تھے، جو اپنی مشتبہ سرگرمیوں کے باعث متعدد بار ٹینس انٹیگریٹی یونٹ (ٹی آئی یو) میں پیش ہوئے۔
تمام کھلاڑیوں جن میں گرینڈ سلیم کا اعزاز جیتنے والے کھلاڑی بھی شامل ہیں، کو مقابلوں میں حصہ لینے کی اجازت دی گئی تھی۔
اے ٹی پی، ڈبلیو ٹی اے، انٹرنیشنل ٹینس فیڈریشن (آئی ٹی ایف) اور چاروں گرینڈ سلیم کے سربراہان نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ جائزہ کا مقصد ’کھیل کی وقار کی حفاظت کرنا ہے۔‘
اُنھوں نے دنیا کی تمام حکومتوں سے فکسنگ کو جرم قرار دینے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
ومبلڈن کے چیئرمین اور سپورٹس انٹیگریٹی بورڈ کے سربراہ فلپ بروک کا کہنا ہے ’یہ بہت اہم ہے کہ ہم اِس نقصان کو درست کریں اور جتنی جلدی ممکن ہو یہ کام انجام دیں۔‘
’ہم سب کچھ کرنے کے لیے پرعزم ہیں، ہمیں اپنے کھیل کو کرپشن سے پاک کرنا ہوگا۔‘
اُنھوں نے کہا کہ گذشتہ دس روز میں ہونے والے واقعات نے یقینی طور پر ہمارے کھیل کو کافی نقصان پہنچایا ہے۔
’ہمیں ٹینس انٹیگریٹی یونٹ کے کام پر مکمل اعتماد ہے۔ تاہم ضروری ہے کہ ہم اِس بات کا آزادانہ جائزہ لیں تاکہ ہمارے کھیل سے محبت کرنے والے اور اِس کو دیکھنے والوں کو یہ اعتماد ہو کہ ہم وہ سب کر رہے ہیں جس سے کھیل کی سالمیت کو برقرار رکھا جاسکے۔‘
بی بی سی اور بزفیڈ نیوز کی تحقیقات کے حوالے سے سوال کے جواب میں بروک نے کہا ’میں پروگرام میں بہت مایوس تھا۔ میرا نہیں خیال کہ ہم نے اِس میں کوئی نئی چیز محسوس کی۔‘
اے ٹی پی کے چیئر مین کرس کیرموڈ کا کہنا تھا ’اس وقت ہم کھیلوں کے حوالے سے زہریلے ماحول میں ہیں۔ لوگوں کے لیے یہ آسان ہدف ہے کہ دیگر گورننگ باڈیز کے بارے میں حالیہ الزامات کے ساتھ جایا جائے۔‘
کیرموڈ کا کہنا تھا ’ مشکوک بیٹنگ کے نمونوں کی فہرست ہونے کا مطلب کرپشن نہیں ہے۔ یہ لال جھنڈے ہیں اور یہ ثبوت نہیں ہے۔‘
جائزہ میں کیا دیکھا جائے گا؟

،تصویر کا ذریعہAP
بی بی سی ریڈیو فائیو لائیو کے ٹینس کے نامہ نگار روسل فیولر کے مطابق ایک آزاد پینل ٹینس کے اینٹی کرپشن پروگرام کے اثرات پر رپورٹ اور تبدیلی کے لیے اپنی سفارشات دے گا۔
’پینل کو کہا گیا ہے کہ وہ دیکھے کہ کس طرح سے رازداری کی ضرورت پر سمجھوتہ کیے بغیر ٹی آئی یو کو مزید شفاف بنایا جاسکتا ہے۔ یہ ٹی آئی یو کے لیے اضافی وسائل اور اُس کے ڈھانچے میں ممکنہ تبدیلیوں پر بھی غور کرے گا تاکہ اُس کی آزادی کو مزید بڑھایا جاسکے۔‘
یہ اِس کا بھی جائزہ لے گا کہ آیا ٹینس انٹیگریٹی پروگرام کی دسترس اور اختیارات کو بڑھانا چاہیے۔
الزامات کیا تھے؟
دستاویزات کے مطابق سنہ 2007 میں اے ٹی پی کی تحقیقات میں ایک مقابلے میں مشکوک بیٹنگ سرگرمیوں سے دو کھلاڑیوں کو کلین چٹ دے دی گئی تھی۔
اِن تحقیقات میں سٹے لگانے والے گروہوں کو تلاش کیا گیا تھا جو روس، شمالی اٹلی اور سسلی میں مقابلوں پر ہزاروں پاؤنڈ کا سٹہ کھیل رہے تھے اور تحقیق کرنے والوں کے خیال میں یہ سب میچ فکس تھے اور اِن میں تین مقابلے ومبلڈن کے تھے۔
سنہ 2008 میں ٹینس حکام کے لیے ایک خفیہ رپورٹ میں انکوائری ٹیم نے کہا تھا کہ اِن مقابلوں میں ملوث 28 کھلاڑیوں سے تحقیقات ہونی چاہیے لیکن نتائج کو دوبارہ کبھی نہیں دیکھا گیا۔
ٹینس کے کھیل میں سنہ 2009 میں نئے انسداد کرپشن قوانین متعارف کرائے تھے لیکن قانونی مشورہ لینے کے بعد یہ کہا گیا کہ پہلے ہونے والے کرپشن کے جرائم کی پیروی نہیں کی جاسکتی ہے۔
مقابلے کس طرح فکس کیے جاتے ہیں؟
جنوبی امریکہ سے تعلق رکھنے والے ایک ٹینس کھلاڑی کے مطابق ٹینس میں سٹے بازی پر ’تین بڑے گروہوں‘ کا تسلط ہے اور کھلاڑیوں کو رقم کی ادائیگی نقد کی جاتی ہے اِس میں بینک کے ذریعے سے رقم کی منتقلی پر پابندی ہے۔
اُن کا کہنا ہے کہ ہر گروہ کے پاس ’اندرونی طور پر بہت سے لوگ موجود ہیں‘ اور 50 سے 60 اکاؤنٹس بھی ہیں، جہاں درجنوں کی تعداد میں چھوٹی شرطیں لگائی جاتی ہیں اور آخر میں ’کافی بڑی‘ رقم بن جاتی ہے۔
کھلاڑی کے مطابق ’یہ دورے کے دوران ایک راز ہوتا ہے جس سے ہر کوئی واقف ہے لیکن ہم اِس کے بارے میں گفتگو نہیں کرتے۔ ہم اِس کو دیکھتے ہیں اور اپنے کام میں لگے رہتے ہیں۔‘ بی بی اِس کھلاڑی کی شناخت سے واقف ہے۔



