’ٹینس میں فکسنگ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں‘

یہ الزامات اُس وقت سامنے آئے ہیں جب بی بی سی اور بزفیڈ نیوز کی تحقیقات میں اِس بات کا انکشاف ہوا تھا کہ گذشتہ دہائی کے دوران ٹینس میں مبینہ طور پر غیر قانونی طریقوں سے سٹے بازی کی گئی

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنیہ الزامات اُس وقت سامنے آئے ہیں جب بی بی سی اور بزفیڈ نیوز کی تحقیقات میں اِس بات کا انکشاف ہوا تھا کہ گذشتہ دہائی کے دوران ٹینس میں مبینہ طور پر غیر قانونی طریقوں سے سٹے بازی کی گئی

شمالی امریکہ سے تعلق رکھنے والے ایک سابق ٹینس کھلاڑی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ٹینس کے مقابلوں میں میچ فکسنگ عام سی بات ہے اور اِس میں کچھ ممتاز کھلاڑی بھی ’کسی نہ کسی طرح تھوڑے بہت گندے ہیں۔‘

اُنھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ فکسنگ صرف نچلی سطح کے کھلاڑیوں تک محدود نہیں ہے اور یہ ’ایسا راز ہے جس سے سبھی واقف ہیں۔‘

کھلاڑی نے نام ظاہر نہ کرنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ ٹینس حکام جانتے ہیں ’کون اِس میں ملوث ہے‘ لیکن وہ اِس کو روکنا نہیں چاہتے۔‘

ٹینس انٹیگریٹی یونٹ (ٹی آئی یو) کا کہنا ہے ’وہ ایسی کسی بھی بات کو مسترد کرتے ہیں کہ میچ فکسنگ کے ثبوت دبائے گئے ہوں۔‘

ٹی آئی یو کا کہنا ہے: ’ہم اُس کھلاڑی کو دعوت دے رہے ہیں جو یہ الزامات لگا رہے ہیں، وہ ہم سے رابطہ کریں اور جو معلومات اُن کے پاس ہیں وہ ہمیں فراہم کریں۔‘

یہ الزامات اُس وقت سامنے آئے ہیں جب بی بی سی اور بزفیڈ نیوز کی تحقیقات میں اِس بات کا انکشاف ہوا تھا کہ گذشتہ دہائی کے دوران ٹینس میں مبینہ طور پر غیر قانونی طریقوں سے سٹے بازی کی گئی ہے۔

بی بی سی ورلڈ کے پروگرام ’ہیو یور سے ٹیم‘ کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کھلاڑی نے بتایا کہ فکسرز کس طرح کام کرتے ہیں اور پکڑ میں نہ آنے کے لیے کیا کرتے ہیں۔

گذشتہ برس یہ کھلاڑی کئی مقابلوں کے دوران ایکشن میں نظر آئے اور آج کل کوچنگ کے شعبے سے منسلک ہیں۔

اُن کا کہنا تھا: ’یہ دورے کے دوران ایک راز ہوتا ہے جس سے ہر کوئی واقف ہے لیکن ہم اِس کے بارے میں گفتگو نہیں کرتے۔ ہم اِس کو دیکھتے ہیں اور اپنے کام میں لگے رہتے ہیں۔‘

مقابلے کس طرح فِکس ہوتے ہیں؟

کھلاڑی کا دعویٰ ہے کہ ٹینس میں سٹے بازی پر ’تین بڑے گروہوں‘ کا تسلط ہے اور کھلاڑیوں کو رقم کی ادائیگی نقد کی جاتی ہے اِس میں بینک کے ذریعے سے رقم کی منتقلی پر پابندی ہے۔

اُن کا کہنا ہے: ’ہرگروہ کے پاس کئی لوگ ہیں اور وہ کھلاڑیوں سے رابطے میں رہتے ہیں اور اُن کے پاس اندرونی طور پر بھی کئی افراد موجود ہیں۔‘

برطانوی نمبر ایک کھلاڑی اینڈی مرے کہتے ہیں کہ اُن سے کبھی کسی نے میچ فکس کرنے کے لیے رابطہ نہیں کیا

،تصویر کا ذریعہPA

،تصویر کا کیپشنبرطانوی نمبر ایک کھلاڑی اینڈی مرے کہتے ہیں کہ اُن سے کبھی کسی نے میچ فکس کرنے کے لیے رابطہ نہیں کیا

’اُن کے پاس 50 سے 60 اکاؤنٹ ہیں جہاں وہ چھوٹی چھوٹی رقوم رکھتے ہیں اور آخر میں یہ بڑی رقم بن جاتی ہے، بہت بڑی۔‘

آپ کو کیسے معلوم ہوا کہ کون ملوث ہے؟

کھلاڑی کے مطابق: ’آپ جانتے ہیں کہ کون ملوث ہے اور کون نہیں۔ ایک کھلاڑی کے طور پر میں جانتا ہو کہ کون جان بوجھ کے چھوڑ رہا ہے یا جوابی شاٹ جان بوجھ کر درمیان میں کھیل رہا ہے، کون کوشش کر رہا ہے اور کون نہیں۔ تو ہم اِس پر کام کرتے ہیں۔ ہم سب جانتے ہیں۔‘

اُنھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ مقابلے کے دوران کھلاڑی مسکراہٹوں کا تبادلہ کرتے ہیں اور تبصرے کرتے ہیں جس سے اشارہ مل جاتا ہے کہ میچ فِکس ہے۔

اُن کا کہنا ہے: ’چند سال قبل میں نے (اعلیٰ کھلاڑیوں کے ملوث ہونے کا) یقین کرنا شروع کر دیا تھا، جب مجھے ایک شخص نے اگلے دو ٹورنامنٹوں کا نتیجہ پہلے سے ہی بتا دیا تھا۔‘

’اُس نے مجھے پہلے ہی بالکل صحیح بتا دیا کہ کون جیتے گا اور یہ کس طرح سے ہو گا۔‘

تو آپ کو بتایا گیا تھا کہ کون جیتے گا؟

کھلاڑی کا کہنا ہے کہ صرف یہ ہی نہیں بلکہ یہ بھی کہ وہ ’ہو بہو‘ کس طرح سے میچ جیتیں گے۔

اُن کا کہنا ہے: ’جب میں خود سے یہ دیکھ رہا تھا تو مجھے یقین نہیں آ رہا تھا۔ یہ آسان نہیں ہے کہ آپ جانتے ہوں کہ آپ کو ہارنا ہے۔ آپ اُس کو مارنا شروع کر دیتے ہیں اور میرا یقین کریں کہ ہر چیز چلتی ہے۔‘

’تو جب میں نے دیکھا کہ ایک کھلاڑی آسانی سے جیت رہا ہے اور یکدم وہ جان بوجھ کے ہر گیند چھوڑنے لگ جائے اور مد مقابل جیت جائے تو میں یقین نہیں کرسکتا۔‘

آپ حکام کے پاس کیوں نہیں گئے؟

’ہم ٹینس انٹیگریٹی یونٹ کے ساتھ تعاون کر سکتے ہیں، اگر ہم کرنا چاہیں۔ لیکن وہ اِس کو روکنا نہیں چاہتے۔

’ حکام اِس سے بالکل واقف ہیں کہ کون اِس میں ملوث ہے، اگر وہ اِس کو روکنا چاہیں تو روک سکتے ہیں۔ یہ بہت آسان ہے پر وہ یہ کرنا نہیں چاہتے۔‘

پیشہ وہ کھلاڑی کیا کماتے ہیں؟

سنہ 2013 میں انٹرنیشنل ٹینس فیڈریشن کی جانب سے کی گئی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ کھیل کی تمام پیشہ ورانہ سطحوں یا شعبہ جات میں کھیلنے والے 13,736 کھلاڑیوں میں سے 45 فیصد نے اِس سے کچھ نہیں کمایا اور صرف دس فیصد کھلاڑی ہی اپنے اخراجات پورے کر سکے ہیں۔

اِس سروے میں 8,874 مرد کھلاڑیوں اور 4,862 خواتین کھلاڑیوں سے رائے لی گئی اور اُن میں سے 3,896 مرد اور 2,212 خواتین کھلاڑیوں نے کوئی انعامی رقم نہیں جیتی۔

ممتاز کھلاڑی کیا کہہ رہے ہیں؟

برطانوی نمبر ایک کھلاڑی اینڈی مرے کہتے ہیں کہ اُن سے کبھی کسی نے میچ فکس کرنے کے لیے رابطہ نہیں کیا اور اُنھوں نے ٹینس حکام سے ’پہلے سے فعال‘ ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔

اُن کا کہنا ہے ’بطور کھلاڑی آپ کو ہر اُس چیز سے آگاہی ہونا چاہیے جو چل رہی ہے۔ میرے خیال میں ہم سب جاننے کے حقدار ہیں۔‘

عالمی نمبر ایک کھلاڑی نوواک جوکووچ کا کہنا ہے کہ اپنے کریئر کے آغاز میں اُنھوں نے میچ ہارنے کے عوض 110,000 برطانوی پاؤنڈز کی پیشکش ٹھکرا دی تھی، لیکن اُن کا کہنا ہے کہ ممتاز کھلاڑیوں میں میچ فکسنگ کے کوئی ’حقیقی ثبوت نہیں‘ ہیں۔

اُن کا کہنا ہے: ’جہاں تک میں جانتا ہوں، اور میچ فکسنگ کے بارے میں میرے علم اور معلومات کے مطابق اعلیٰ سطح پر کچھ نہیں ہو رہا ہے۔‘

عالمی نمبر ایک نوواک جوکووچ کا کہنا ہے کہ اپنے کریئر کے آغاز میں، اُنھوں نے میچ ہارنے کے عوض 110,000 برطانوی پاؤنڈز کی پیشکش ٹھکرا دی تھی

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنعالمی نمبر ایک نوواک جوکووچ کا کہنا ہے کہ اپنے کریئر کے آغاز میں، اُنھوں نے میچ ہارنے کے عوض 110,000 برطانوی پاؤنڈز کی پیشکش ٹھکرا دی تھی

خواتین کی عالمی نمبر ایک سیرینا ولیئمز کا کہنا ہے کہ اگر میچ فکسنگ ہو رہی ہے تو ’مجھے اِس بارے میں کوئی علم نہیں ہے۔‘

ٹینس انٹیگریٹی یونٹ کا ردعمل

بی بی سی کے لیے جاری کیے گئے بیان میں ٹی آئی یو کا کہنا ہے: ’ٹی آئی یو اور ٹینس حکام ’ایسی کسی بھی بات کو مسترد کرتے ہیں کہ میچ فکسنگ کے ثبوت دبائے گئے ہیں۔

’کھیل میں اِس حوالے سے صفر برداشت کا موقف ہے۔ ٹینس اینٹی کرپشن پروگرام کو مکمل اختیارات کے ساتھ نافذ کیا گیا ہے جس میں تاحیات پابندی اور مالی جرمانے بھی شامل ہیں۔

’سنہ 2009 سے تمام پیشہ ور کھلاڑیوں، معاون عملے اور حکام کو سختی سے پابند کیا گیا ہے اور اِس امر کو لازمی قرار دیا گیا ہے کہ اگر کوئی بدعنوان شخص اُن سے رابطہ کرے تو وہ فوری اُس کی رپورٹ کریں یا کہیں مبینہ طور پر بدعنوانی کی کوئی سرگرمی ہوتی دیکھیں تو ٹی آئی یو کو بتائیں۔ اگر وہ یہ نہیں کرتے تو اِس کو خلاف ورزی سمجھا جائے گا اور اُن کے خلاف تادیبی کارروائی کی جاسکتی ہے۔‘

بدعنوانی روکنے کے لیے ٹی آئی یو تعلیمی پروگرامات اورخفیہ رپورٹنگ کے نظام کے ذریعے سے کھلاڑیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔

تقریباً 21 ہزار فعال پیشہ ور کھلاڑیوں کی بھاری اکثریت دیانت دار اور اچھے لوگوں پر مشتمل ہے جو اِس بات سے شدید نفرت کرتے ہیں کہ جس کھیل سے وہ محبت کرتے ہیں، اُس پر بدعنوانی کے الزامات کا دھبہ لگے۔