مائیکل پلیٹینی کی معطلی کی اپیل مسترد

،تصویر کا ذریعہRIA Novosti
کھیلوں کی ثالثی سے متعلق عدالت نے یورپی فٹبال ایسوسی ایشن (یوئیفا) کے صدر مائیکل پلیٹینی کی 90 روز کی معطلی کی سزا ہٹانے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔
کھیلوں کی ثالثی سے متعلق عدالت کی جانب سے جمعے کو مائیکل پلیٹینی کی 90 روز معطلی کی سزا کو مسترد کرنےکا مطلب یہ ہے کہ انھیں سنیچر کو فرانس میں یورو کپ سنہ 2016 کے سلسلے میں ہونے والے فائنل ڈراز کی تقریب میں شرکت کی اجازت نہیں ہو گی۔
واضح رہے کہ فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا کی ضابطۂ اخلاق کمیٹی نے اکتبوبر میں تنظیم کے صدر سیپ بلیٹر اور مائیکل پلیٹینی کو بدعنوانی کے الزامات کے تحت 90 دن کے لیے معطل کیا تھا۔
سیپ بلیٹر اور مائیکل پلیٹینی دونوں ہی ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔
فیفا کی ضابطۂ اخلاق کمیٹی اگلے ہفتے بلیٹر اور پلیٹینی کے خلاف عائد کیے جانے والے الزامات کی سماعت کرے گی۔
فیفا کی ضابطۂ اخلاق کی کمیٹی سنہ 2011 میں پلیٹینی کو دی جانے والی13.5 لاکھ پاؤنڈ کی رقم سے متعلق جانچ کر رہی جو پلیٹینی کو مبینہ طور پر نو برس قبل ایک کام کرنے پر دی گئی تھی۔
پلیٹینی نے سنہ 1999 اور 2002 میں بلیٹر کے مشیر کے طور پر کام کیا تھا۔
فیفا کی ضابطۂ اخلاق کی کمیٹی کا فیصلہ 21 دسمبر کو متوقع ہے۔
سیپ بلیٹر نے 29 مئی کو پانچویں بار فیفا کا اتنخاب جیتا تھا تاہم بعد میں بدعنوانی کے الزامات کے بعد اپنا عہدہ چھوڑنے کا اعلان کیا تھا۔
فیفا کی سپیشل کانگریس 26 فروری سنہ 2016 کو تنظیم کے نئے صدر کا انتخاب کرےگی۔
پیرس میں بی بی سی ریڈیو فائیو لائیو سپورٹس نیوز کے نامہ نگار رچرڈ کانوے کا کہنا ہے کہ مائیکل پلیٹینی اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے ثبوت فراہم کر رہے ہیں اور انھوں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ وہ اس مقدمے میں حقائق کو مدِ نظر نہ رکھے بلکہ یہ دیکھے کہ کیا انھیں فیفا کی صدارت کے لیے ہونے والے انتخابات سے باہر رکھنا صحیح ہے؟
مائیکل پلیٹینی 26 فروری سنہ 2016 کو فیفا کے موجودہ صدر بلیٹر کے جانشین بننا چاہتے ہیں تاہم فیفا کی جانب سے عائد پابندی کی وجہ سے وہ ان انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتے۔



