برطانیہ 79 سال کے بعد ڈیوس کپ جیت گیا

،تصویر کا ذریعہAFP
بیلجیئم کے ڈیوڈ گوفن کی برطانیہ کے ڈیوڈ مرے کے ہاتھوں شکست کے بعد برطانیہ نے 1936 کے بعد پہلی مرتبہ ڈیوس کپ جیت لیا ہے۔
بیلجیئم کے شہر گھینٹ میں ہونے والا مقابلہ مرے نے 6۔3، 7۔5، اور 6۔3 سے جیت کر اپنی ٹیم کو بیسٹ آف فائیو میں تین ایک سے برتری دلائی۔
اس طرح برطانیہ اب تک یہ ٹائٹل 10 مرتبہ جیت چکا ہے جبکہ مرے نے ومبیلڈن، دی یو ایس اوپن، اور اولمپک گیمز کے بعد ڈیوس کپ بھی اپنی ٹرافیوں میں شامل کر لیا ہے۔
پانچ برسوں میں برطانیہ کی ٹیم کے کپتان لیون سمتھ نے ٹیم کو اوسط درجے سے صفِ اول کی ٹیم بنا دیا ہے۔
سمتھ اینڈی مرے کے بچپن کے کوچ ہیں اور مرے ان کے کپتان بننے پر بہت خوش تھے۔ تاہم عالمی نمبر دو کھلاڑی مرے کہتے ہیں کہ ٹیم کا انحصار کسی ایک کھلاڑی پر نہیں ہے بلکہ جیمز وارڈ اور جیمی مرے نے بھی جیت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
مرے اب جان میکنرو اور میلاس ولانڈرز کے صف میں کھڑے ہو گئے ہیں جنھوں نے ڈیوس کپ میں 8-0 سنگلز ریکارڈ بنایا ہے۔
جیت پر تبصرہ کرتے ہوئے برطانیہ کی طرف سے ڈیوس کپ کھیلنے والے سابق کھلاڑی جیمی بیکر نے کہا کہ ’یہ حیرت انگیز ہے۔ میرے سکاٹ لینڈ سے تعلق کے حوالے سے فٹبال اور رگبی کی مایوسی کے بعد ان لڑکو نے ٹینس کا عالمی کپ جیت لیا ہے۔‘



