پاک بھارت کرکٹ: شہریار خان اور ششانک منوہرکی ملاقات

شہریار خان دبئی میں پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان کھیلے گئے ایک روزہ میچ کے لیے دبئی گئے تھے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنشہریار خان دبئی میں پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان کھیلے گئے ایک روزہ میچ کے لیے دبئی گئے تھے
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان نے بھارتی کرکٹ بورڈ کے صدر ششانک منوہر سے اتوار کو ملاقات کی جس میں پاک بھارت کرکٹ سیریز کے بارے میں بات چیت ہوئی ہے۔

یہ ملاقات دبئی میں آئی سی سی کے ہیڈکوارٹر میں انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کے صدر جائلز کلارک کے توسط سے ہوئی جو پاک بھارت کرکٹ سیریز کے انعقاد کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔

یہ ملاقات تقریباً ایک گھنٹہ جاری رہی جس میں شہریار خان کے ساتھ پاکستان کرکٹ بورڈ کے ایگزیکٹیو کمیٹی کے چیئرمین نجم سیٹھی بھی موجود تھے۔

ملاقات کے بعد شہریار خان نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ وہ اس مرحلے پر ملاقات کی تفصیل نہیں بتا سکتے صرف اتنا کہہ سکتے ہیں کہ یہ ملاقات بہت اچھی رہی لیکن اس بارے میں جائلز کلارک تفصیل سے پیر کے روز میڈیا کو آگاہ کریں گے۔

شہریارخان نے ایک بار پھر اپنی اس بات کو دوہرایا کہ پاک بھارت کرکٹ سیریز کے بارے میں حتمی فیصلہ اب حکومت پاکستان کرے گی۔

ممبئی میں ہونے والی ملاقات کے منسوخ ہونے پر ششانک منوہر نے شہریار خان سے معذرت کی تھی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنممبئی میں ہونے والی ملاقات کے منسوخ ہونے پر ششانک منوہر نے شہریار خان سے معذرت کی تھی

یاد رہے کہ شہریار خان اور ششانک منوہر کے درمیان ملاقات ممبئی میں ہونی تھی لیکن ملاقات سے کچھ دیر قبل شیوسینا کے کارکنوں کے بی سی سی آئی کے صدر دفتر پر حملے کے نتیجے میں وہ منسوخ کر دی گئی تھی۔

واضح رہے کہ پاکستان اور بھارت آئندہ ماہ ہونے والی سیریز کے بارے میں کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ چونکہ یہ پاکستان کی ہوم سیریز ہے اور بھارت نے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کر رکھے ہیں لہذا اسے یہ سیریز متحدہ عرب امارات میں کھیلنی چاہیے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے بی سی سی آئی کی اس تجویز کو بھی مسترد کر دیا ہے کہ پاکستانی ٹیم یہ سیریز بھارت آکر کھیلے۔

پی سی بی کی ایگزیکٹیو کمیٹی کے چیئرمین نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ پاکستان کسی صورت میں اپنی ٹیم بھارت نہیں بھیجےگا کیونکہ ماضی میں بھی پاکستان نے دو بار اپنی ٹیم بھارت بھیجی جس پر اسے کسی بھی طرح کا مالی فائدہ نہیں ہوا لہذا ایسا اب تیسری بار نہیں ہوگا۔

دوسری جانب بھارت، متحدہ عرب امارات میں یہ سیریز کھیلنے کے لیے تیار نہیں۔

اس صورتحال کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ پاکستان کے وزیرداخلہ چوہدری نثار نے بھی کہہ دیا ہے کہ پاکستانی ٹیم کو کسی صورت بھارت جاکر نہیں کھیلنا چاہیے اور اس بارے میں جو بھی فیصلہ ہوا وہ پاکستان کرکٹ بورڈ نہیں بلکہ پاکستانی حکومت کرے گی۔