’ڈیوس کپ سے پہلے خوف میں نہیں رہنا چاہتا‘

برطانوی ٹینس سٹار اینڈی مرے نے کہا ہے کہ وہ بیلجیئم میں سکیورٹی خدشات کے باوجود ڈیوس کپ کھیلنے سے خوف زدہ نہیں ہیں۔
بیلجیئم کے شہر گھینٹ میں اگلے ہفتے کھیلا جانے والا فائنل مولنبیک سے 35 میل کی فاصلے پر ہے۔ یاد رہے کہ مولنبیک میں اس وقت پیرس حملے میں ملوث مشتبہ حملہ آوروں کی تلاش کا سلسلہ جاری ہے۔
مرے نے کہا کہ ’میں نہیں چاہتا کہ میں ہر بار کورٹ میں قدم رکھتے ہوئے خوف محسوس کروں۔‘
28 سالہ مرے ان پانچ کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں جن کا نام پرو وزنل یا عارضی سکواڈ میں شامل ہے۔
اس سے قبل برسلز میں ہی منگل کو سپین اور انگلینڈ کے درمیان کھیلا جانے والا فرینڈلی فٹبال میچ سکیورٹی خدشات کے تحت منسوخ کردیا گیا تھا۔
بیلجیئم کی حکومت نے شدت پسندی کے خطرے کے درجے میں اضافہ کردیا ہے۔ ادھر بین الاقوامی ٹینس فیڈریشن کے صدر ڈیوڈ ہیگرٹی نے برطانوی اخبار دی ٹائمز سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ مستقبل میں ہونے والے ٹینس میچوں میں سکیورٹی میں اضافہ کیا جائے گا۔ جبکہ یورپ میں تمام کھیلوں کے مقابلوں کے لیے بھی سکیورٹی میں خاطر خواہ اضافہ کی ضرورت ہے جس میں ڈیوس کپ اور فیڈ کپ بھی شامل ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
ڈیوس کپ میں کھیلنے والی برطانوی ٹیم کے کپتان لیؤن سمتھ کے پاس یہ اختیار موجود ہے کہ وہ درجہ بندی میں نمبر دو کی پوزیشن پر براجمان کھلاڑی الجاز بیڈین کو کھلائیں۔
اس سے قبل سلووینیا کی طرف سے کھیلنے والے 26 سالہ بیڈین کو برطانوی شہریت اس سال مارچ میں ملی تھی۔ لیکن ڈیوس کپ کے قوانین میں ترامیم کے نتیجے میں اب کوئی بھی کھلاڑی دو ملکوں کی نمائندگی نہیں کرسکتا۔
تاہم بیڈین جو کہ پراگ میں بین الاقوامی ٹینس فیڈریشن سے اپیل کرنے کے لیے گئے ہوئے ہیں، کھیلنے کے لیے پر امید ہیں۔ ان کی اپیل میں ان کا موقف ہے کہ انھوں نے برطانوی پاسپورٹ کی درخواست ڈیوس کپ کے قوانین میں ترامیم سے پہلے کی تھی۔
برطانوی ٹیم کے کپتان لیؤن سمتھ حتمی چار کھلاڑیوں کا انتخاب ڈرا کے ذریعے فائنل کھیلے جانے سے کچھ دیر قبل کریں گے۔



