’ومبلڈن کی انتظامیہ صنفی تفریق برتتی ہے‘

،تصویر کا ذریعہAFP

ڈنمارک کی ٹینس کھلاڑی کیرولائن ووزنیاکی نے ومبلڈن کی انتظامیہ پر صنفی تفریق کا الزام لگایا ہے اور کہا ہے کہ خواتین کھلاڑیوں کو بڑے کورٹس پر کھیلنے کا کم ہی موقع دیا جاتا ہے۔

انھوں نے یہ بات چوتھے راؤنڈ میں سپین کی گیبرین مگوروزا کے ہاتھوں دو صفر سے شکست کے بعد پریس کانفرنس میں کہی۔

24 برس کی ووزنیاکی نے کہا کہ وہ خود بھی بڑے کورٹس پر بڑے شوق سے کھیلنا چاہیں گی لیکن خواتین کھلاڑیوں کو اِس کا موقع کم کم ہی دیا جاتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ کورٹ نمبر ایک اور سینٹر کورٹ پر ایک دن میں خواتین کا صرف ایک ہی میچ رکھا جاتا ہے جبکہ کورٹ نمبر دو پر بھی پچھلے پورے ہفتے خواتین کا صرف ایک ہی میچ ہوتا تھا۔

انھوں نے زور دے کر کہا کہ وہ صرف یہی کہہ سکتی ہیں کہ خواتین کھلاڑیوں کے لیے صورتحال مختلف ہوتی ہے۔

ووزنیاکی کا کہنا تھا کہ بہت ساری دوسری خواتین کھلاڑی بھی یہی محسوس کرتی ہیں کہ بڑے کورٹس پر بڑے مجمع کے سامنے کھیلنا اُن کا بھی حق ہے۔

ومبلڈن کے میزبان آل انگلینڈ کلب نے کیرولائن ووزنیاکی کے بیان پر تبصرے سے انکار کر دیا ہے۔

ووزنیاکی پریس کانفرنس کے دوران نامہ نگاروں کو اپنے سوالات ٹینس تک ہی محدود رکھنے کے لیے بھی کہا گیا کیونکہ ووزنیاکی سے اُن کے گولف چیمپیئن اور سابق منگیتر روری مک الرائےکی ٹخنے کی چوٹ کے بارے میں سوالات شروع ہوگئے تھے۔