آئی سی سی کی صدارت، نجم سیٹھی کی تقرری جون تک موخر

،تصویر کا ذریعہAFP
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) پاکستان کے کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین نجم سیٹھی کو آئی سی سی کا نیا صدر مقرر کرنے پر جون کے آخری میں بارباڈوس میں ہونے والے اپنے اجلاس میں غور کرے گی۔
اس بات کا اعلان دبئی میں آئی سی سی کے سہ ماہی اجلاس کے اختتام پر کیا گیا جس میں بین الاقوامی کرکٹ کی تنظیم نے بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے آئی سی سی کے صدر مصطفی کمال کا استعفیٰ منظور کر لیا جس کو اپریل کی دو تاریخ سے موثر تصور کیا جائے گا۔
مصطفی کمال کا استعفیٰ منظور کرتے ہوئے آئی سی سی نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ مصطفی کمال کی بقیہ مدت صدارت کے لیے کسی متبادل صدر کو عارضی طور پر نامزد نہیں کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ مصطفی کمال نے آئی سی سی کی انتظامیہ سے عالمی کپ کے دوران پیدا ہونے والے اختلافات کے بعد اپنے عہدے سے مستعفیٰ ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔
سال دو ہزاہ پندرہ کے پہلے سہ ماہی اجلاس میں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں منعقد ہونے والے ایک روزہ کرکٹ کے عالمی مقابلوں کی رپورٹ بھی پیش کی گئی۔
آئی سی سی نے آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے کرکٹ بورڈز کو ورلڈ کپ کے مقابلے کامیابی سے منعقد کرانے پر مبارک باد دی۔ آئی سی سی کے چیئرمین نارائن سوامی سری نواسن نے اس ورلڈ کپ کو تاریخ کا مقبول ترین ورلڈ کپ قرار دیا۔
آئی سی سی نے شائقین کی شمولیت کا نیا ریکارڈ قائم کیا اور ان مقابلوں کو گیارہ لاکھ لوگوں نےسٹیڈیم میں پہنچ کر دیکھا۔ عالمی کپ کے فائنل کو چورانے ہزار شائقین نے دیکھا جب کہ دس سے زیادہ ایسے میچ تھے جن میں شائقین کی تعداد چالیس ہزار سے زیادہ رہی۔
عالمی کپ مقابلوں کی نشریات سات مختلف زبانوں میں کی گئیں۔ اس کے علاوہ تین کروڑ اکسٹھ لاکھ لوگوں نے آئی سی سی کی ویب سائٹ پر میچوں کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔
غیر قانونی بالنگ ایکشن
آئی سی سی نے مشکوک بالنگ ایکشن کے حوالے سے موصول ہونے والی شکایت کو نمٹانے کے طریقہ کار میں بھی تبدیلی کا فیصلہ کیا گیا۔
نئے طریقہ کار کے تحت جن بالروں کے خلاف مشکوک بالنگ ایکش کے حوالے سے شکایت کی جاتی ہے وہ اپنے ایکش کو درست کر کے چوبیس دن کے اندر آئی سی سی سے رجوع کر سکیں گے جبکہ پہلے یہ مدت پینتیس دن کی تھی۔
اس کے علاوہ آئی سی سی اس وقت تک مشکوک بالنگ ایکشن کے حامل بالر ڈومسیٹک کرکٹ میں بھی حصہ نہیں لے سکیں گے جب تک وہ اپنا بالنگ ایکشن درست نہیں کر لیتے۔



