امارات کی ٹیم رنز کے صحرا میں بھٹک گئی

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نیپئر
پاکستانی بیٹسمینوں نے اپنے گروپ کی سب سے کمزور ٹیم متحدہ عرب امارات کے خلاف پچھلے میچوں کی کسر پوری کر دی۔
129 رنز کی جیت کے ساتھ پاکستانی ٹیم نے دو قیمتی پوائنٹس حاصل کر لیے لیکن فاسٹ بولر محمد عرفان کولہے کی تکلیف کے سبب تین اوورز کرانے کے بعد میدان سے باہر جانے پر مجبور ہوئے اور پھر بولنگ کے لیے نہ آ سکے۔
<link type="page"><caption> میچ کا تفصیلی سکور کارڈ</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/sport/cricket/scorecard/88570" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> پاکستان بمقابلہ متحدہ عرب امارات: تصاویر</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/multimedia/2015/03/150304_cwc_pak_vs_uae_pics_gallery_mb.shtml" platform="highweb"/></link>
تاہم پاکستان کرکٹ بورڈ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ تشویش کی کوئی بات نہیں ہے۔
عرفان کے علاوہ سہیل خان بھی ہیمسٹرنگ کی جکڑ میں آئے لیکن وہ کچھ دیر کے لیے ہی میدان سے باہرگئے۔
پاکستانی ٹیم نے چھ وکٹوں پر 339 رنز بنائے جو اس کے بولرز کے لیے کافی رہا کہ وہ امارات کی بیٹنگ لائن کو قابو کرسکیں۔
امارات کی ٹیم ہدف کے تعاقب میں راستہ کھو بیٹھی اور 210 رنز آٹھ کھلاڑی آؤٹ پر اس کی ہمت جواب دے گئی۔

،تصویر کا ذریعہAFP
شیمان انور نے عمدہ بیٹنگ کے سلسلے کو جاری رکھا اور چار چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے 62 رنز سکور کیے۔ اس عالمی کپ میں وہ 270 رنز کے ساتھ تمام بیٹسمینوں میں سب سے آگے ہیں۔
انہوں نے چار میچوں میں ایک سنچری اور دو نصف سنچریاں بنائی ہیں۔
امجد جاوید نے جارحانہ انداز اختیار کرتے ہوئے پانچ چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے 40 رنز بنائے لیکن اس وقت تک بازی ختم ہوچکی تھی۔
پاکستانی بولرز میں صہیب مقصود کو پہلی ون ڈے وکٹ کی خوشی ملی تو شاہد آفریدی نے بھی تین میچوں میں وکٹ سے محرومی کے بعد ایک ہی اوور میں دو وکٹیں حاصل کر ڈالیں۔ وہاب ریاض اور سہیل خان بھی دو دو وکٹوں کی مساوی تقسیم میں شریک رہے۔
پاکستانی ٹیم کے لیے کسی تبدیلی کے بغیر یہ میچ کھیلنا سب کے لیے حیران کن تھا۔
اوپنر ناصرجمشید جنہیں یہ میچ کھلانے کا گرین سگنل کپتان مصباح الحق ایک روز پہلے ہی دے چکے تھے خود کو اس ٹیم کا سب سے غیر فعال کھلاڑی ثابت کر چکے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty
وارم اپ میچ میں ایک رن اور پھر ورلڈ کپ کے پہلے میچ میں صفر اور دوسرے میچ میں ایک رن کے بعد اس بار چوتھے ہی اوور میں چار رنز بناکر آؤٹ ہوگئے اور یہ سوال چھوڑ گئے کہ مسلسل ناکامیوں کے بعد ایسی کیا گیدڑ سنگھی ہے جو انہیں ٹیم سے باہر ہونے سے روکے ہوئے ہے۔
احمد شہزاد اور حارث سہیل دونوں نے ابتدائی نقصان کی تلافی سنچری شراکت سے کی لیکن اس ورلڈ کپ میں پاکستانی بیٹسمینوں کا سنچری نہ کرنے کا جمود نہ ٹوٹ سکا۔
ورلڈ کپ میں پاکستان کی طرف سے آخری سنچری عمران نذیر نے 2007 میں زمبابوے کے خلاف اسکور کی تھی جس کے بعد 2011 کے آٹھ میچوں میں کوئی سنچری نہ بنی اور اب اس ورلڈ کپ میں بھی چار میچز تین ہندسوں کی اننگز کے بغیر گزر گئے ہیں۔
جب اننگز کے دوران احمد اور حارث کے آؤٹ ہونے کے بعد ٹیم جارحانہ بیٹنگ کا تقاضا کر رہی تھی تو کپتان مصباح الحق اور صہیب مقصود نے 53 گیندوں پر 75 رنز کی شراکت بنا دی۔
کپتان مصباح الحق نے ورلڈ کپ کے چار میچوں میں اپنی تیسری نصف سنچری 39 گیندوں پر تین چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے مکمل کی جس کے بعد شاہد آفریدی نے دو چھکوں اور ایک چوکے کی مدد سے ناقابل شکست اکیس رنز بنانے کے ساتھ ساتھ ون ڈے انٹرنیشنل میں اپنے آٹھ ہزار رنز بھی مکمل کر لیے۔



