’سینٹرل کنٹریکٹ پورے سال کا دیں، تین ماہ کا نہیں‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام, کراچی
مصباح الحق کی قیادت میں پاکستانی کرکٹروں نے پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے دیے جانے والے تین ماہ کے سینٹرل کنٹریکٹ کو مسترد کرتے ہوئے پورے سال کے کنٹریکٹ کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ صورت حال ایک ایسے وقت پیدا ہوئی ہے جب پاکستانی کرکٹ ٹیم ورلڈ کپ میں حصہ لینے کے لیے جا چکی ہے اور اس وقت عالمی کپ کی تیاری کے لیے نیوزی لینڈ میں میچ کھیل رہی ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے ترجمان کے مطابق کرکٹ بورڈ کھلاڑیوں سے رابطے میں ہے اور امید ہے کہ یہ مسئلہ جلد حل ہو جائے گا۔
واضح رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے گذشتہ سال کرکٹروں کو جو کنٹریکٹ دیے تھے ان کی میعاد دسمبر میں ختم ہوگئی تھی جس کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے کھلاڑیوں کو عالمی کپ تک کےلیے تین ماہ کے کنٹریکٹ دینے کا اعلان کیا تھا اور پہلے سے موجود 31 کھلاڑیوں میں دو نئے کھلاڑی یاسر شاہ اور سہیل خان بھی شامل کر لیے گئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty
پاکستانی کرکٹ ٹیم کی نیوزی لینڈ روانگی سے قبل بھی کھلاڑیوں نے سینٹرل کنٹریکٹ پر تحفظات ظاہر کیے تھے اور انھوں نے سینٹرل کنٹریکٹ پر دستخط کرنے سے انکار کردیا تھا۔ اس سلسلے میں ان کی چیئرمین شہریارخان سے تفصیلی بات چیت ہوئی تھی لیکن کھلاڑی اپنے موقف سے ہٹنے کے لیے تیار نہیں تھے۔
معلوم ہوا ہے کہ کھلاڑی اس خطرے سے دوچار ہیں کہ اگر ورلڈ کپ میں ٹیم کی کارکردگی اچھی نہ رہی تو کچھ کی سینٹرل کنٹریکٹ میں تنزلی ہو سکتی ہے اور کچھ ٹیم سے بھی باہر ہوسکتے ہیں، لہٰذا وہ اپنے مستقبل کا تحفظ چاہتے ہوئے پورے سال کے کنٹریکٹ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ ان کھلاڑیوں کو میچ جیتنے پر وِن بونس پر بھی اعتراض ہے کہ یہ سیریز کی جیت کے بجائے ہر میچ کی جیت پر دیا جائے۔
یاد رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے گذشتہ سینٹرل کنٹریکٹ میں ایک میچ کی جیت پر بونس دینے کی پالیسی تبدیل کرتےہوئے سیریز کی جیت پر دیے گئے بونس کی رقم بڑھادی تھی جس پر کھلاڑی خوش نہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اس تمام تر صورت حال میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ کھلاڑیوں نے اگرچہ تین ماہ کے سینٹرل کنٹریکٹ کو مسترد کر دیا ہے لیکن گذشتہ کنٹریکٹ میں یہ شق موجود ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ چھ ماہ کے لیے اگلا کنٹریکٹ بڑھا سکتا ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے کھلاڑیوں کو سینٹرل کنٹریکٹ دینے کے لیے جو کمیٹی قائم کی تھی اس میں ذاکر خان، ہارون رشید، معین خان اور وقار یونس شامل تھے۔
ان میں سے چیف سلیکٹر معین خان اور کوچ وقاریونس اس وقت ٹیم کے ساتھ نیوزی لینڈ میں موجود ہیں۔



