سری نواسن کے بی سی سی آئی کا الیکشن لڑنے پر’پابندی‘

،تصویر کا ذریعہAFP
بھارتی سپریم کورٹ نے بھارتی کرکٹ کنٹرول بورڈ کو چھ ہفتے میں نئے انتخابات کروانے کا حکم دیتے ہوئے موجودہ چیئرمین این سری نواسن کو اس وقت تک انتخاب لڑنے سے روک دیا ہے جب تک ان کے آئی پی ایل میں کاروباری مفادات ہیں۔
عدالت نے انڈین پریمیئر لیگ کرکٹ ٹورنامنٹ میں سپاٹ فکسنگ اور سٹے بازی کے الزامات کے 18 ماہ پرانے معاملے میں چنئی سپر کنگز کے عہدیدار گروناتھ میپّن اور راجستھان رائلز کے شریک مالک راج کندرا کو سٹے بازی کا مجرم بھی قرار دیا ہے۔
سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ بی سی سی آئی کے سرگرمی عوامی کام ہیں اور آرٹیکل 226 کے تحت ان کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
عدالتِ عظمیٰ نے گروناتھ میپّن کے سسر اور بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کے صدر این شری نواسن کو اپنے داماد کو بچانے اور ان کے اقدامات کی پردہ پوشی کے الزامات سے تو بری کر دیا تاہم کہا کہ وہ مفادات کے ٹکراؤ کی وجہ اس وقت تک بی سی سی آئی کا اگلا الیکشن نہیں لڑ سکتے جب تک وہ خود کو آئی پی ایل میں اپنے کاروباری مفادات سے الگ نہیں کر لیتے۔
سری نواسن کی کمپنی انڈیا سیمنٹس چنئی سوپر کنگز کی مالک ہے اور سٹے بازی کا مجرم قرار دیے جانے والے میپّن گروناتھ اس ٹیم کی انتظامیہ میں شامل تھے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اس مقدمے کے درخواست گزار آدتیہ ورما نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’سپریم کورٹ نے بی سی سی آئی کو اگلے چھ ہفتے میں انتخابات کروانے کا حکم دیا ہے اور نام لے کر این شری نواسن کے انتخاب لڑنے پر پابندی لگائی ہے۔‘
سٹے بازی کے مجرم
سپریم کورٹ نے اپنے 130 صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا ہے کہ گروناتھ میپّن اور راج کندرا آئی پی ایل کے چھٹے ایڈیشن میں سٹے بازی میں ملوث رہے ہیں۔
آئی پی ایل میں سٹے بازی اور سپاٹ فکسنگ کے الزامات کی تفتیش مدگل کمیٹی نے کی تھی اور این سری نواسن اور ان کے داماد گروناتھ میّپن کے علاوہ آئی پی ایل کے چیف آپریٹنگ افسر سندر رمن اور راجستھان رائلز کے مالک اور فلم سٹار شلپا شیٹی کے شوہر راج کندرا کو شاملِ تفتیش کیا گیا تھا۔
مدگل کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ این سری نواسن میچ فکسنگ اور سٹے بازی میں ملوث نہیں تھے اور نہ ہی انھوں نے تفتیش میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کی، تاہم انھیں ایک کھلاڑی کی جانب سے ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزیوں کا علم تھا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
سٹے بازی کے الزامات سامنے آنے کے بعد سری نواسن کو بی سی سی آئی کے سربراہ کے عہدے سے عارضی طور پر ہٹنا پڑا تھا۔
آئی پی ایل میں سپاٹ فکسنگ کے الزامات 2013 میں سامنے آئے تھے اور اس سلسلے میں فاسٹ بالر سری سنتھ سمیت راجستھان رائلز کے تین کھلاڑیوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔



