’حفیظ کے بولنگ ایکشن کی رپورٹ سات دن میں آئے گی‘

آئی سی سی کی جانب سے کرکٹ کے عالمی کپ کے لیے حتمی 15 رکنی ٹیم کا اعلان کرنے کی آخری تاریخ سات جنوری ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنآئی سی سی کی جانب سے کرکٹ کے عالمی کپ کے لیے حتمی 15 رکنی ٹیم کا اعلان کرنے کی آخری تاریخ سات جنوری ہے
    • مصنف, ذیشان علی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے آل راؤنڈر محمد حفیظ کے بھارت کے شہر چنئی میں بولنگ ایکشن کے غیر رسمی بائیومکینک ٹیسٹ کی رپورٹ سات دنوں میں آئے گی۔

محمد حفیظ کا بائیومکینک ٹیسٹ بھارتی شہر چنئی کے سری راما چندرا آرتھوسکوپی اینڈ سپورٹس سائنسز سینٹر میں ہوا جس کے بعد وہ پاکستان واپس آ گئے ہیں۔

سری راما چندرا آرتھوسکوپی اینڈ سپورٹس سائنسز سینٹر کے انچارج رمیش سبرامینیم نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ محمد حفیظ کے بائیومکینک ٹیسٹ کی رپورٹ آنے میں سات دن لگیں گے۔

رمیش نے مزید بتایا کہ وہ پوری کوشش کریں گے کہ محمد حفیظ کے بائیومکینک ٹیسٹ کی رپورٹ سات جنوری سے پہلے آ جائے۔

اگر محمد حفیظ بائیومکینک ٹیسٹ پاس کر لیتے تو پاکستان کرکٹ بورڈ آئی سی سی سے ان کا باقاعدہ ٹیسٹ کروانے کی درخواست کرے گا۔

خیال رہے کہ آئی سی سی کی جانب سے کرکٹ کے عالمی کپ کے لیے حتمی 15 رکنی ٹیم کا اعلان کرنے کی آخری تاریخ سات جنوری ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہر یار خان نے چند روز قبل بی بی سی سے بات ہوئے بتایا تھا کہ محمد حفیظ کو ورلڈکپ کے لیے بطور بیٹسمین شامل کیا جا سکتا ہے لیکن حتمی فیصلہ سلیکٹرز ہی کریں گے۔

محمد حفیظ اپنے کریئر میں تیسری مرتبہ مشکوک بولنگ ایکشن کی زد میں آئے ہیں۔

ابوظہبی میں گذشتہ سال نومبر میں پاکستان اور نیوزی لینڈ کے مابین پہلے میچ کے اختتام پر امپائروں نے پاکستانی آل راؤنڈر محمد حفیظ کے بولنگ ایکشن کو مشکوک قرار دیتے ہوئے اسے آئی سی سی کو رپورٹ کیا تھا۔

اس سے پہلے گذشتہ ماہ نومبر میں ختم ہونے والے چیمپیئنز لیگ ٹی ٹوئنٹی میں بھی محمد حفیظ کے بولنگ ایکشن کے بارے میں امپائروں نے رپورٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ کھیل کے قوانین کے مطابق نہیں ہے۔

جنوری سنہ 2005 میں آسٹریلیا کھیلے جانے والی سہ فریقی ون ڈے سیریز میں ویسٹ انڈیز کے خلاف برزبین میں کھیلے گئے میچ میں امپائروں روڈی کرٹزن اور پیٹر پارکر نے محمد حفیظ کے بولنگ ایکشن کے مشکوک ہونے کے بارے میں آئی سی سی کو رپورٹ کی تھی جس کے بعد انھیں بولنگ ایکشن کی درستگی کے عمل سے گزرنا پڑا تھا۔

حالیہ دنوں میں آئی سی سی نے مشکوک بولنگ ایکشن کے معاملے میں انتہائی سخت موقف اختیار کر رکھا ہے اور متعدد آف سپنر اس کی زد میں آ چکے ہیں جن میں پاکستان کے سعید اجمل قابل ذکر ہیں۔