ٹورنامنٹ تو اب شروع ہوا ہے: شہناز شیخ

پاکستانی ٹیم تینوں گروپ میچ ہارنے کے باوجود سیمی فائنل میں پہنچ گئی
،تصویر کا کیپشنپاکستانی ٹیم تینوں گروپ میچ ہارنے کے باوجود سیمی فائنل میں پہنچ گئی
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستانی ہاکی ٹیم کے ہیڈ کوچ شہناز شیخ تسلیم کرتے ہیں کہ چیمپیئنز ٹرافی ہاکی ٹورنامنٹ کا فارمیٹ ان کی ٹیم کو بہت راس آیا ہے۔

ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ پاکستانی ٹیم کے لیے ٹورنامنٹ اب شروع ہوا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستانی ٹیم ٹورنامنٹ کے فارمیٹ کی وجہ سے اپنے تینوں گروپ میچوں میں شکست کے باوجود کوارٹر فائنل کھیلی جس میں اس نے عالمی رینکنگ کی نمبر دو ٹیم ہالینڈ کو دو کے مقابلے میں چار گول سے ہمار کر سیمی فائنل میں جگہ بنا لی ہے۔

شہناز شیخ نے بھارتی شہر بھونیشور سے بی بی سی اردو سروس کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ 2012 کی چیمپیئنز ٹرافی میں بھی پاکستانی ٹیم کو اس فارمیٹ کا فائدہ ہوا تھا اور اس نے سیمی فائنل تک رسائی حاصل کرنے کے بعد کانسی کا تمغہ جیتا تھا۔

شہناز شیخ کا کہنا ہے کہ ’پاکستانی ٹیم کے لیے ٹورنامنٹ اب شروع ہوا ہے، پچھلے تین میچوں میں اس نے غلطیاں کیں جو کوارٹر فائنل میں دور کرنے کی کوشش کی گئی۔‘

پاکستان نے جمعرات کو ہالینڈ کو دو کے مقابلے میں چار گول سے شکست دی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپاکستان نے جمعرات کو ہالینڈ کو دو کے مقابلے میں چار گول سے شکست دی

انھوں نے کہا کہ ’گروپ میچوں میں پاکستانی ٹیم کی کارکردگی اچھی نہ ہونے کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ کھلاڑی ڈیڑھ دو سال سے انٹرنیشنل ہاکی، خاص کر پریشر ہاکی نہیں کھیلے تھے جو یورپی ٹیموں کے خلاف میچوں میں نظر آتی ہے۔‘

شہناز شیخ کا کہنا ہے کہ پاکستانی ٹیم کا انٹرنیشنل ایکسپوژر دوسری ٹیموں کے مقابلے میں کم ہے اس کے علاوہ کھلاڑیوں کو اپنی جسمانی فٹنس میں مزید بہتری لانی ہوگی۔

’وہ چاہتے تھے کہ کھلاڑیوں کا طویل کیمپ لگا کر ان کی فٹنس اور ہم آہنگی بڑھاتے، جیسا کہ ایشیئن گیمز کے لیے انھوں نے طویل کیمپ لگایا تھا لیکن چیمپیئنز ٹرافی کے لیے بھرپور تیاری نہیں ہو سکی کیونکہ بعض کھلاڑی غیر ملکی لیگ میں چلے گئے تھے۔ وہ چاہیں گے کہ فیڈریشن کھلاڑیوں کو ان غیر ملکی لیگوں کا متبادل فراہم کرے۔‘

شہناز شیخ کے مطابق ’فیڈریشن کو سپر لیگ کے انعقاد کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا ہوگا تاکہ ہمارے کھلاڑیوں کی مالی حالت بہتر ہو سکے جیسا کہ بھارتی کھلاڑیوں کی ہوئی ہے۔‘