سلمان بٹ کو کرکٹ بورڈ کے خط کا انتظار

سلمان بٹ کو دو دیگر کرکٹروں محمد عامر اور محمد آصف کے ساتھ سپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے کی پاداش میں پانچ سالہ پابندی کا سامنا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسلمان بٹ کو دو دیگر کرکٹروں محمد عامر اور محمد آصف کے ساتھ سپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے کی پاداش میں پانچ سالہ پابندی کا سامنا ہے
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اْردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سلمان بٹ کو دو ہفتے گزر جانے کے باوجود پاکستان کرکٹ بورڈ کی طرف سے وہ خط نہیں ملا جس میں ان کی بحالی سے متعلق ہدایات ہیں جن پر عمل کر کے ہی وہ کرکٹ کے میدانوں میں لوٹ سکیں گے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہر یارخان نے 17 نومبر کو سلمان بٹ سے ملاقات کے بعد کہا تھا کہ یہ خط آئندہ چند روز میں انھیں مل جائے گا۔

سلمان بٹ نے منگل کو بی بی سی کے استفسار پر بتایا کہ اس طرح کا کوئی خط انھیں ابھی تک موصول نہیں ہوا۔

سلمان بٹ کو دو دیگر کرکٹروں محمد عامر اور محمد آصف کے ساتھ سپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے کی پاداش میں پانچ سالہ پابندی کا سامنا ہے۔

یہ پابندی آئندہ سال ختم ہو رہی ہے تاہم پاکستان کرکٹ بورڈ محمد عامر کے معاملے میں غیرمعمولی دلچسپی کامظاہرہ کرتا رہا ہے کہ آئی سی سی محمد عامر کے سلسلے میں نرمی برتتے ہوئے انھیں ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کی اجازت دے دے۔

آئی سی سی کے اینٹی کرپشن کوڈ میں ترمیم کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے محمد عامر کو ڈومیسٹک کرکٹ کھلانے کی اجازت حاصل کرنے کے لیے آئی سی سی کو درخواست دے دی ہے۔

اس حوالے سے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہر یار خان کا کہنا ہے کہ دیگر دو کرکٹروں سلمان بٹ اور محمد آصف نے کرکٹ میں واپسی کے لیے درکار آئی سی سی اور پاکستان کرکٹ بورڈ کی شرائط پوری نہیں کی ہیں۔ ان دونوں کرکٹروں نے اپنے کیے پر جو معافی مانگی ہے وہ کافی نہیں ہے بلکہ انھیں اس سے زیادہ کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔

سلمان بٹ کا کہنا ہے کہ وہ 13 ماہ سے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چکر لگا رہے ہیں اور انھیں بحالی کے پروگرام کے لیے اپنی دستیابی سے آگاہ کر چکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ اس پروگرام کا بڑا حصہ مکمل کر چکے ہیں اب صرف ایک مرحلہ باقی ہے جس میں انھیں پاکستان کرکٹ بورڈ کے بلائے گئے شرکا کے سامنے اپنے کیے کی معافی مانگنی ہے، لیکن بورڈ ابھی تک اس بارے میں انھیں کوئی مثبت جواب نہیں دے رہا ہے۔

سلمان بٹ کا کہنا ہے کہ وہ ٹیم میں منتخب کرنے کی بات نہیں کر رہے ہیں کیونکہ اس کا انحصار ان کی کارکردگی پر ہوگا، فی الحال وہ چاہتے ہیں کہ بحالی کے پروگرام کو مکمل کر کے وہ ڈومیسٹک کرکٹ میں اپنی واپسی یقینی بنا سکیں۔