’آسٹریلیا کے خلاف فتح معجزے سے کم نہیں‘

،تصویر کا ذریعہHockey India
- مصنف, راجیش کمار گپت
- عہدہ, صحافی، نئی دہلی
بھارتی ہاکی ٹیم جب آسٹریلیا سے چار ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا پہلا میچ چار صفر سے ہاری تو شائقین کو زیادہ تعجب نہیں ہوا۔
اکثر بڑی ٹیموں سے ہندوستانی ٹیم ایسے سکور سے ہارتی ہی رہی ہے۔
دوسرے میچ میں جب بھارت نے واپسی کرتے ہوئے ایک کے مقابلے میں دو گول سے فتح حاصل کی تب بھی یہی لگا کہ شاید آسٹریلیا نے اپنی دوسرے درجے کی ٹیم میدان میں اتاری ہوگی۔
لیکن پھر جب بھارت نے تیسرے میچ میں ایک صفر اور چوتھے اور آخری میچ میں تین ایک کے سکور سے آسٹریلیا کو ہرا دیا تو جیسے کھلبلی مچ گئی۔
بھارت میں ہاکی کے شائقین کو جیسے یقین ہی نہیں ہو رہا ہے کہ یہ وہی ہندوستانی ہاکی ٹیم ہے جسے آسٹریلیا کی ٹیم جب چاہے، جیسے چاہے، جہاں چاہے ہراتی رہی ہے۔
انھیں آج بھی دہلی میں 2010 کے دولت مشترکہ کھیلوں کا فائنل یاد ہے جب آسٹریلیا نے بھارت کو آٹھ گول سے شکست دی تھی۔
بھارتی ہاکی کے چاہنے والوں کے لیے یہ جیت کسی معجزے سے کم نہیں ہے۔
قومی ہاکی ٹیم کے سابق کپتان ظفر اقبال بھی اس فتح پر حیران ہیں۔

،تصویر کا ذریعہHockey India
بی بی سی ہندی سے خصوصی گفتگو میں انھوں نے کہا،’یہ معجزہ ہی ہے اور اسے سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔ بھارتی ٹیم کا کسی عالمی چیمپئن ٹیم کے خلاف ایسا کھیل گزشتہ 30 سالوں میں تو نہیں دیکھا۔‘
ان کا خیال ہے کہ بھارتی ٹیم کے ارکان کو ہاکی انڈیا لیگ میں غیر ملکی کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلنے کے تجربے کا فائدہ ملا ہے. اس کے علاوہ ٹیم کے گول کیپر پی سريجیش بھی جیت میں اہم کڑی ثابت ہوئے ہیں۔
ظفر اقبال کے علاوہ سابق اولمپيئن ہرندر سنگھ بھی اس جیت کو خاص قرار دیتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے، ’ٹیم میں یہ تبدیلی مسلسل کھیلنے سے آئی ہے۔ اب کھلاڑی مخالف ٹیم کی حکمت عملی سمجھنے لگے ہیں جس سے فرق پڑا ہے۔‘
آسٹریلیا کے خلاف اس جیت سے ہندوستانی ٹیم کا حوصلہ اب چیمپئنز ٹرافی کے لیے بھی بلند ہوگا جو بھارتی شہر بھوونیشور میں ہی چھ سے 14 دسمبر تک منعقد ہوگی۔
بھارتی ٹیم کے کپتان سردار سنگھ اتوار کو اپنا 200 واں بین الاقوامی میچ کھیل رہے تھے۔
دیکھنا یہ ہے کہ آسٹریلیا کو سیریز میں شکست دینے والے بھارتی کپتان اپنی ٹیم کو اور کتنی کامیاب دلواتے ہیں۔



