آسٹریلیا کے خلاف وائٹ واش سب سے یادگار: مصباح

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, شکور بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ابوظہبی
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ دو سال قبل انگلینڈ کے خلاف متحدہ عرب امارات ہی میں کلین سویپ ان کے کریئر کی سب سے بڑی جیت تھی یا آسٹریلیا کے خلاف یہ تازہ ترین وائٹ واش۔
لیکن وہ آسٹریلیا کے خلاف دو صفر کے اس کلین سویپ کو اس لیے زیادہ اہمیت دے رہے ہیں کہ یہ جیت نسبتاً ناتجربہ کار بولنگ اٹیک کے ذریعے ممکن ہوسکی ہے۔
’انگلینڈ کی ٹیم کو جب ہرایا تھا اس وقت وہ عالمی نمبر ایک ٹیم تھی اور اس وقت وہ بہت اچھا کھیل رہی تھی۔آسٹریلوی ٹیم اس وقت نمبر دو ٹیم ہے اور وہ بھی بہت اچھا کھیلتی ہوئی آئی تھی۔انگلینڈ کے خلاف ہماری ٹیم سیٹ تھی اور ہمارے بولنگ اٹیک کے بارے میں سب کو معلوم تھا کہ وہ انگلینڈ کو آؤٹ کرسکتا ہے، آسٹریلیا کے خلاف ہمارا بولنگ اٹیک ناتجربہ کار تھا اور پاکستانی ٹیم کی حالیہ کارکردگی کو دیکھتے ہوئے اس جیت کو بہت بڑا کارنامہ کہا جاسکتا ہے۔‘
ابوظہبی ٹیسٹ میں 356 رنز کی شاندار کامیابی کے نتیجے میں مصباح الحق ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ 14 فتوحات کے پاکستانی ریکارڈ میں عمران خان اور جاوید میانداد کے ہم پلہ ہوگئے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ریکارڈز اچھی کارکردگی سے مشروط ہیں۔
’ریکارڈز کرکٹروں کو ہمیشہ ایک خوشگوار تاثر دیتے ہیں انھیں مطمئن کرتے ہیں۔جب اچھی پرفارمنس ہوتی ہے تو ریکارڈز بھی خود بخود کرکٹر کی زندگی میں آتے رہتے ہیں اور پھر یہ ریکارڈز ساری زندگی کے لیے یاد رہ جاتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہgetty images
مصباح سے جب پوچھا گیا کہ اس جیت کا راز کیا ہے؟ تو انھوں نے اسے ٹیم ورک کا نتیجہ قرار دیا۔
’ہر کھلاڑی نے اپنی ذمہ داری محسوس کی۔ بیٹنگ میں زبردست پرفارمنس رہی اور بولنگ بھی بہت منظم اور موثر رہی۔‘
مصباح الحق کہتے ہیں انھیں یقین تھا کہ آخری دن پاکستانی بولر آسٹریلیاکی چھ وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔
’مجھے یقین تھا کہ نئی گیند کے ساتھ بولنگ کرتے ہوئے ہم آسٹریلوی بیٹسمینوں کو آؤٹ کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔اس میچ میں نئی گیندکے ساتھ پہلے 25 اوورز بہت اہم رہے تھے خصوصاً باؤنس پر سپنروں کی بولنگ کھیلنا آسان نہ تھا۔چونکہ گیند نرم ہوگئی تھی اسی لیے آسٹریلوی بیٹسمین چوتھے دن اپنی وکٹیں بچاگئے تھے۔‘
مصباح الحق کو یقین ہے کہ پاکستانی ٹیم نے اس سیریز سے جو اعتماد حاصل کیا ہے وہ نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز میں بہت کام آئے گا۔
ٹیسٹ سیریز میں اپنی شاندار بیٹنگ کارکردگی کے بارے میں مصباح الحق کا کہنا ہے کہ یہ ان کی مثبت سوچ کا نتیجہ ہے۔
’سری لنکا کے دورے میں اور پھر آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے سیریز میں مجھ سے رنز نہیں ہوئے حالانکہ گیند میرے بلے پر آ رہی تھی اس لیے میں زیادہ پریشان نہیں تھا ۔اسے صرف میں بدقسمتی ہی کہوں گا۔ لیکن اس ٹیسٹ سیریز میں میرے ارد گرد جتنے بھی لوگ تھے انھوں نے میرے حوصلے بڑھائے اور میں اس قابل ہوا کہ بڑی اننگز کھیل سکوں۔‘



