ماضی کے دشمن اب شیر وشکر

مرلی دھرن کا کہنا تھا کہ آسٹریلوی امپائرز نے ان کے بولنگ ایکشن پر اعتراض کیا لیکن میں نے اسے غلط ثابت کردکھایا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنمرلی دھرن کا کہنا تھا کہ آسٹریلوی امپائرز نے ان کے بولنگ ایکشن پر اعتراض کیا لیکن میں نے اسے غلط ثابت کردکھایا
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام کراچی

شہرۂ آفاق سری لنکن آف اسپنر متایا مرلی دھرن کو آسٹریلوی ٹیم کے ساتھ دیکھ کر ذہن ماضی میں کھوجاتا ہے جب اسی آسٹریلوی کرکٹ نے ان کے کریئر کو وقت سے پہلے ختم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی یہاں تک کہ سابق آسٹریلوی وزیراعظم جان ہاورڈ نے ان کے بولنگ ایکشن کو ’چکر‘ قرار دیا تھا۔

لیکن آج یہی آسٹریلوی کرکٹ مرلی کے جادو سے حریفوں کو بے بس کرنا چاہتی ہے اور مرلی دھرن بھی پیشہ ورانہ انداز میں آسٹریلوی کرکٹرز کی ضرورتوں کو پورا کررہے ہیں۔

تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے۔

مرلی اسوقت آسٹریلوی ٹیم کے بولنگ کنسلٹنٹ کی حیثیت سے متحدہ عرب امارات میں موجود ہیں جہاں ان کا مقابلہ پاکستانی ٹیم سے ہے۔

مرلی کو وہ وقت یاد دلانے کی کوشش کی گئی کہ آپ کے بولنگ ایکشن پر سب سے زیادہ شور مچانے والے آسٹریلوی تھے اور انہی کے امپائرز ڈیرل ہیئر اور راس ایمرسن نے آپ کی گیندوں کو نوبال قرار دیا تھا اور آپ اب انہی کے ساتھ بیٹھے ہیں تودھیمے لہجے میں بات کرنے والے مرلی دھرن نے اسے بھول جاؤ اور معاف کردو کے فلسفے کے ذریعے سمجھانے کی کوشش کرڈالی۔

مرلی اسوقت آسٹریلوی ٹیم کے بولنگ کنسلٹنٹ کی حیثیت سے متحدہ عرب امارات میں موجود ہیں

،تصویر کا ذریعہPA

،تصویر کا کیپشنمرلی اسوقت آسٹریلوی ٹیم کے بولنگ کنسلٹنٹ کی حیثیت سے متحدہ عرب امارات میں موجود ہیں

’ زندگی آگے بڑھ جاتی ہے ۔ میں معاف کرنے اور بھول جانے پر یقین رکھتا ہوں۔ آسٹریلوی امپائرز نے یقیناً میرے بولنگ ایکشن پر اعتراض کیا لیکن میں نے اسے غلط ثابت کردکھایا‘ ۔

آسٹریلوی کرکٹ کے کرتا دھرتا کو مرلی سب سے پہلے اسوقت یاد آئے تھے جب انہوں نے آف اسپنر نیتھن لائن اور چند دوسرے بولرز کو اس سال کے اوائل میں چند روز کے لیے سری لنکا بھیجا تھا تاکہ وہ سری لنکن ساحر سے کچھ سیکھ سکیں۔یہ حکمت عملی اب اپنا اثر دکھارہی ہے۔

پاکستان کے خلاف پہلے ون ڈے میں نیتھن لائن ماضی کے مقابلے میں مختلف بولر کے روپ میں سامنے آئے اور ان کے ایک ہی اوور میں سرفراز احمد اور مصباح الحق کی وکٹوں نے پاکستانی ٹیم کے پیروں سے زمین ہی سرکا دی۔

مرلی دھرن نیتھن لائن کی کارکردگی سے خوش ہیں۔

’میں نے لائن اور دوسرے سپنرز کو سمجھایا ہے کہ دنیا میں مختلف وکٹوں پر بولنگ کرتے ہوئے گیند کی رفتار کتنی رکھنی ہے اور مختلف طرح کی گیندیں کرنی ہیں۔ نیتھن لائن اور گلین میکسویل میری باتوں کو توجہ سے سنتے ہیں اور ان کی کارکردگی آپ کے سامنے ہے ‘۔

مرلی دھرن کا کہنا ہے کہ وہ صرف آسٹریلوی سپنرز پر ہی کام نہیں کررہے ہیں بلکہ بیٹسمینوں کو بھی بتاتے ہیں کہ حریف سپنرز کو کس طرح کھیلنا ہے ۔

مرلی دھرن کا کہنا ہے کہ وہ پندرہ ڈگری کی حد میں رہتے ہوئے مخصوص گیند ’دوسرا‘ کرچکے ہیں۔

’ میرے بولنگ ایکشن پر اعتراض ہوا تو مجھے بائیومکینک کے کئی ٹیسٹ سے گزرنا پڑا لیکن میں نے ثابت کردکھایا کہ میں قواعد وضوابط میں رہ کر ’دوسرا ‛ کرسکتا ہوں ۔ وہ گیند میں نے دس اعشاریہ چار ڈگری میں کی تھی ‘۔

سعید اجمل کے بولنگ ایکشن کے معاملے پر مرلی دھرن کا کہنا ہے کہ ثقلین مشتاق کی مدد سے سعید اجمل اس مسئلے پر قابو پاسکتے ہیں۔ کچھ بھی ناممکن نہیں ہے۔

مرلی دھرن کا کہنا ہے کہ ماضی میں مشکوک بولنگ ایکشن کا معاملہ بولر کے کریئر سے کھیلنے کے مترادف تھا لیکن موجودہ طریقہ کار درست ہے کہ اگر کسی بولر کے بولنگ ایکشن پر اعتراض ہوتا ہے تو وہ بائیومکینک کے عمل سے اپنے بولنگ ایکشن میں درستگی لاسکتا ہے۔