حواس باختگی کا دوسرا نام پاکستانی بیٹنگ

،تصویر کا ذریعہAFP Getty

    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام کراچی

آسٹریلیا نے ٹی ٹوئنٹی کے بعد پہلے ون ڈے میں بھی گھاؤ لگادیا اور وہ بھی پاکستانی ٹیم کے من پسند شارجہ اسٹیڈیم میں۔

ایک ایسی وکٹ پر جس میں ماہرین کے خیال میں تین سو کا اسکور موجود تھا سعید اجمل اور محمد حفیظ کے بغیر بے ضرر دکھائی دینے والی پاکستانی بولنگ آسٹریلیا کو 255 رنز پر محدود رکھنے میں کامیاب ہوگئی لیکن یہ اسکور بھی پاکستانی ٹیم کے لیے ہمالیہ ثابت ہوا اور آسٹریلوی بولرز نے زخمی شیر کی طرح شکار کرتے ہوئے پوری بساط 162 رنز پر لپیٹ دی۔

93 رنز کی اس جیت کے سب سے قابل ذ کر کھلاڑی اسٹیون اسمتھ تھے جنہوں نے اپنی پہلی ون ڈے سنچری اسکور کی لیکن درحقیقت یہ نیتھن لائن تھے جنہوں نے مرلی دھرن سے سیکھے ہوئے گُر صحیح وقت پر آزماتے ہوئے ایک ہی اوور میں سرفراز احمد اور مصباح الحق کو آؤٹ کرکے پاکستانی ٹیم کا سکون چھین لیا۔

مچل جانسن کی تین اور گلین میکسویل کی دو وکٹوں نے بھی جلتی پہ تیل کا کام دیا۔

سعید اجمل اور محمد حفیظ کی غیرموجودگی نے سلیکشن کے کئی مسائل پیدا کیے۔ریگولر وکٹ کیپر کے طور پر ٹیم میں شامل کیے گئے اوپنر کی ذمہ داری بھی نبھانی پڑی۔

آسٹریلوی بالر گیند بچاتے ہوئے

،تصویر کا ذریعہAFP Getty

،تصویر کا کیپشنآسٹریلوی بالر گیند بچاتے ہوئے

اسد شفیق نے گیارہ ماہ بعد ون ڈے ٹیم میں دوبارہ جگہ بنائی لیکن اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ یونس خان ون ڈے کے لیے موزوں نہیں رہے تواسے یہ حقیقت بھی تسلیم کرلینی چاہیے کہ اسد شفیق بھی محدود اوورز کی کرکٹ کے قابل نہیں۔

دو غیر مستقل مزاج ٹیلنٹڈ بیٹسمینوں کے سلیکشن میں صہیب مقصود پر عمراکمل کو ترجیح دی گئی۔

ذوالفقار بابر جنہیں پہلے سلیکشن کے قابل ہی نہیں سمجھا گیا تھا محمد حفیظ کے ان فٹ ہونے کے بعد اسکواڈ میں لیے گئے اور وہ پنتیس سال تین سو ایک دن کی عمر میں ون ڈے کریئر کا آغاز کرنے والے پاکستان کے دوسرے سب سے عمررسیدہ کرکٹر بن گئے ۔

آسٹریلیا نے شین ایبٹ کو ون ڈے کیپ دی جو 29 فروری کو پیدا ہونے والے دنیا کے پہلے ون ڈے کرکٹر کے طور پر یاد رکھے جاتے رہیں گے۔

میچ کی پہلی ہی گیند پر محمد عرفان نے ایرون فنچ کی وکٹ حاصل کی جس کے بعد پاکستانی ٹیم کو اگلی وکٹ کے لیے انسیویں اوور تک انتظار کرنا پڑا جب ڈیوڈ وارنر43 رنز بناکر شاہد آفریدی کی گیند پر عمراکمل کے ہاتھوں کیچ ہوئے اسوقت آسٹریلیا کا اسکور 86 رنز تھا۔

ثابت قدم اسٹیون اسمتھ نے اپنے سامنے گلین میکسویل اور کپتان جارج بیلی کے قدم ڈگمگاتے دیکھے۔

پاکستانی بلے باز اسد شفیق اور سرفراز احمد

،تصویر کا ذریعہAFP Getty

،تصویر کا کیپشنپاکستانی بلے باز اسد شفیق اور سرفراز احمد

جارج بیلی فواد عالم کی گیند پر شاہد آفریدی کے ہاتھوں کیچ ہوئے۔

میکسویل ایک اور 5 رنز پر دو ڈراپ کیچز کا فائدہ نہ اٹھاسکے اور محمد عرفان کے ہاتھوں کیچ کی صورت میں ذوالفقار بابر کی پہلی وکٹ بن گئے۔

جیمز فاکنر کو شاہد آفریدی نے ایل بی ڈبلیو کیا جنہوں نے سنچری میکر اسمتھ کی وکٹ بھی حاصل کرڈالی۔

چھ میچوں میں وکٹ سے محروم شاہد آفریدی نے اپنے 10 اوورز کا اختتام 46 رنز کے عوض 3 وکٹوں کی اطمینان بخش کارکردگی پر کیا۔

محمد عرفان اور ذوالفقار بابر نے بھی رن ریٹ پر قابو رکھا۔

آسٹریلوی ٹیم نے پاکستانی بولرز کی نپی تلی بولنگ کے سامنے بیس اوورز میں 98 رنز کے اضافے پر 5 وکٹیں گنوائیں۔

آخری پانچ اوورز میں وہ اسکور میں 36 رنز کا ہی اضافہ کرپائی۔

آسٹریلین وکٹ کیپر بریڈ ہیڈن اور پاکستانی بلے باز اسد شفیق آسٹریلین ڈیوڈ وارنر کو اسد شفیق کا کیچ پکڑتے ہوئے دیکھ رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP Getty

،تصویر کا کیپشنآسٹریلین وکٹ کیپر بریڈ ہیڈن اور پاکستانی بلے باز اسد شفیق آسٹریلین ڈیوڈ وارنر کو اسد شفیق کا کیچ پکڑتے ہوئے دیکھ رہے ہیں

پاکستان نے تیسرے ہی اوور میں احمد شہزاد کی وکٹ گنوائی جس کے بعد سرفراز احمد کی پراعتماد بیٹنگ نے ٹیم کو حوصلہ دیا لیکن تیرہویں اوور نے میچ کا نقشہ ہی بدل دیا۔

آف اسپنر نیتھن لائن نے پہلے سرفراز احمد کو 34 کے انفرادی اسکور پر وکٹ کیپر بریڈ ہیڈن کے ہاتھوں کیچ کرایا اور اگلی ہی گیند پر لیگ سلپ میں کھڑے وارنر کے عمدہ کیچ کے ذریعے کپتان مصباح الحق کو بھی ڈریسنگ روم کی راہ دکھائی۔

اگلے ہی اوور میں اسد شفیق نے بھی مچل جانسن کو وکٹ تھماکر پویلین کی راہ لی۔

عمراکمل کے 46 رنز بھی بے رنگ ثابت ہوئے کیونکہ دوسرے اینڈ سے فواد عالم اور شاہد آفریدی آؤٹ ہوکر رہی سہی امیدیں بھی اپنے ساتھ لے گئے تھے۔