جے وردھنے، خوبصورت کرکٹر نفیس انسان

،تصویر کا ذریعہReuters
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
یہ سری لنکن کرکٹ کی خوش قسمتی ہے کہ بیٹنگ کی شاندار روایت کو اروندا ڈی سلوا اور سنتھ جے سوریا سے منتقل کرنے کا وقت آیا تو اس کے پاس مہیلا جے وردھنے اور کمار سنگاکارا جیسے باصلاحیت بیٹسمین موجود تھے جو ایک طویل عرصے سے ذمہ داری بخوبی نبھا رہے ہیں۔
کئی ایشین بیٹسمینوں کی طرح مہیلا جے وردھنے کے بارے میں بھی ناقدین کا یہ کہنا ہے کہ ان کے کریئر کے ہندسوں کا بہت بڑا حصہ ہوم گراؤنڈ پر ہی جگمگاتا نظر آتا ہے لیکن اس حقیقت سے شاید ہی کوئی انکار کرے کہ وہ 17 سال تک سری لنکا کی بیٹنگ لائن کی پاور سپلائی کا ایک موثر ذریعہ بنے رہے ہیں ۔
جے وردھنے ایک مکمل بیٹسمین ہیں جس کے پاس ریفلیکسز اور درست تیکنک کے قیمتی اثاثے کے ساتھ ساتھ اسلحہ خانے میں کور ڈرائیوز۔
کلائی کے استعمال سے گیند کو فلک کرنا۔ کٹ اور پُل کا وافر ذخیرہ موجود رہا ہے لیکن جس خوبی نے انھیں کرکٹ کی دنیا میں بڑے بیٹسمین کے درجے پر پہنچایا وہ بڑی اننگز کھیلنے کی ان کی چاہ اور رنز کی بھوک ہے۔
کرکٹ کی دنیا کی سب سے بڑی شراکت جس نے624 رنز بناکر جنوبی افریقی بولنگ کو مفلوج کر دیا اس میں جے وردھنے اور سنگاکارا شریک تھے اور جے وردھنے374 رنز بناکر نمایاں تھے جو کسی بھی سری لنکن بیٹسمین کی ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے بڑی انفرادی اننگز بھی ہے۔
صرف یہی ایک اننگز نہیں بلکہ کئی مواقعوں پر انہوں نے بڑی اننگز کھیل کر اپنی ٹیم کو جیت سے بھی ہمکنار کیا اور شکست سے بھی بچایا۔
جے وردھنے نے خود کو ٹیسٹ کے ساتھ ساتھ ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی کا بھی ایک کامیاب بیٹسمین ثابت کر دکھایا ہے۔
جے وردھنے نے اسی سال ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں سری لنکا کی جیت پر مختصر دورانیے کی کرکٹ کو خیرباد کہہ دیا اور اب وہ پانچ دن کی تھکا دینے والی کرکٹ سے رخصت ہو کر اپنی تمام تر توانائی آئندہ سال عالمی کپ کے لیے بچانا چاہتے ہیں ۔
جسے جیتنا ان کی دیرینہ خواہش ہے کیونکہ پچھلے دو عالمی کپ میں سری لنکا کی ٹیم دو چار ہاتھ جبکہ لب بام رہ گیا کے مصداق فائنل میں آ کر ہارتی رہی ہے۔
مہیلا جے وردھنے نے دو حصوں میں سری لنکا کی قیادت کی ہے ۔ان کی قیادت میں سری لنکا نے انگلینڈ اور نیوزی لینڈ میں ٹیسٹ میچز بھی جیتے لیکن سب سے بڑھ کر2007 کے عالمی کپ کا فائنل بھی کھیلا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
جے وردھنے صرف اپنی خوبصورت بیٹنگ ہی نہیں بلکہ اپنی انکساری کی وجہ سے بھی کرکٹ کے حلقوں میں مقبول رہے ہیں۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے2006 کے سری لنکا کے دورے میں ہم چند پاکستانی صحافی سری لنکن ٹیم کی پریکٹس ختم ہونے کا انتظار کررہے تھے تاکہ جے وردھنے سے بات کر سکیں۔ جیسے ہی پریکٹس ختم ہوئی جے وردھنے خود ہماری طرف آئے اور کہا کہ اگر آپ لوگ ان سے بات کرنے کے انتظار میں کھڑے ہیں تو پلیز کر لیں۔
میں نے جے وردھنے کے چہرے پر ہمیشہ مسکراہٹ ہی دیکھی اور کبھی غصے میں نہیں دیکھا یہاں تک کہ ایک پریس کانفرنس کے دوران انھوں نے اس سری لنکن صحافی سے بھی شائستگی سے بات کرتے ہوئے غلط بیانی سے باز رہنے کو کہا جس نے ان کے بارے میں اپنے اخبار میں کافی سخت باتیں لکھی تھیں اور ان پر قیادت حاصل کرنے کے لیے سری لنکن صدر کی حمایت حاصل کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔



