بھارتی کرکٹ بورڈ آئی سی سی کے فیصلے سے ناخوش

اگر اینڈرسن قصور وار ثابت ہوجاتے تو انھیں چار میچوں کی پابندی کا سامنا ہو سکتا تھا

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشناگر اینڈرسن قصور وار ثابت ہوجاتے تو انھیں چار میچوں کی پابندی کا سامنا ہو سکتا تھا

بھارتی کرکٹ بورڈ بی سی سی آئی نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل سے جیمز اینڈرسن کے حوالے سے کیے جانے والے فیصلے پر ایک خط میں ناراضی کا اظہار کیا ہے جس میں اینڈرسن کو بے گناہ قرار دیا گیا تھا۔

32 سالہ اینڈرسن پر بھارتی کھلاڑی روندرا جڈیجا کو بھارت اور انگلینڈ کے درمیان ٹرینٹ بریج میں ہونے والے دوسرے ٹیسٹ میچ میں گالیاں اور دھکا دینے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

یہ واقعہ مبینہ طور پر دوسرے دن اس وقت پیش آیا تھا جب دونوں ٹیمیں کھانے کے لیے میدان سے باہر جا رہی تھیں۔

تاہم بی سی سی آئی کی شکایت اور انکوائری کے بعد آئ سی سی نے دونوں کھلاڑیوں کو بری کر دیا تھا۔

آسٹریلیا میں موجود عدالتی کمشنر گورڈن لیوس نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے چھ گھنٹوں کی سماعت کے بعد اینڈرسن اور جڈیجا کے کیس کا فیصلہ کیا۔

آئی سی سی کے اس فیصلے کے خلاف صرف ان کے سربراہ ڈیو رچررڈسن اپیل کرسکتے ہیں لیکن بھارتی کرکٹ بورڈ کے سیکریٹری سنجے پٹیل کے مطابق بورڈ نے ابھی تک ایسی کوئی درخواست دائر نہیں کی۔

انھوں نے کہا: ’ہم نے آئی سی سی کو خط لکھا ہے جس میں ہم نے ان کو اس بات سے آگاہ کیا ہے کہ ہم ان کے فیصلے سے ناخوش ہیں، ہمیں اس کیس میں اپیل کا حق حاصل نہیں ہے۔‘

واضح رہے کہ اگر اینڈرسن اس کیس میں قصوروار ثابت ہوجاتے تو انھیں چار میچوں کی پابندی کا سامنا ہو سکتا تھا۔

آئی سی سی کے مطابق وہ اینڈرسن کے فیصلے پر ’نظر ثانی‘ کر رہی ہے اور آئی سی سی کے سربراہ ڈیو رچرڈسن کے پاس اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کے لیے سات دن یعنی دس اگست تک کا وقت ہے۔

دونوں ملکوں کے مابین جاری پانچ میچوں کی ٹیسٹ سیریز ایک ایک سے برابر ہے۔ سیریز کا چوتھا میچ جمعرات کو مانچسٹر کے اولڈ ٹریفورڈ سٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔