ثانیہ مرزا ومبلڈن کے لیے تیار

سنہ 2005 میں ایک بنیاد پرست اسلامی گروپ نے ثانیہ مرزا کے سکرٹ پہن کر ٹینس کھیلنے کے حوالے سے دھمکی دی تھی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسنہ 2005 میں ایک بنیاد پرست اسلامی گروپ نے ثانیہ مرزا کے سکرٹ پہن کر ٹینس کھیلنے کے حوالے سے دھمکی دی تھی

بھارت کی ٹینس سٹار کھلاڑی ثانیہ مرزا ومبلڈن میں خواتین کے ڈبلز مقابلوں کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔

انھوں نے اب تک کے اپنے کھیل کے سفر اور بھارت میں ٹینس کے مسائل سے متعلق بی بی سی کے پروگرام ’سپورٹس آور‘ میں کھل کر بات کی۔

بھارت میں خواتین کے رنگ کے حوالے سے کچھ لوگ زیادہ ہی حساس ہوتے ہیں اور خاص طور پرگورے رنگ کی کچھ زیادہ ہی چاہت ہوتی ہے ایسے میں دھوپ میں ٹینس کھیلنے سے کیا رنگ کے سانولے ہونے کے خوف نے ثانیہ مرزا کو پریشان نہیں کیا؟

اس سوال کے جواب میں ثانیہ کہتی ہیں ’برصغیر میں لڑکیوں کے لیے گورا رنگ سب سے بہتر سمجھا جاتا ہے۔ ایسے میں میری چچی، چچا اور چچازاد بہنوں کو فکر تھی کہ اگر میرا رنگ سیاہ ہوگیا تو شادی کیسے ہوگی۔ یہ خوف ہندوستانی ثقافت کا حصہ ہے۔‘

ابتداء مشکل تھی

گرچہ 11 برس کے بعد ثانیہ مرزا بھارت میں کھیل کے میدان کی ایک بڑی ہستی بن چکی ہیں اور خواتین کے ڈبلز میں ان کے کریئر کی درجہ بندی چھٹے نمبر تک پہنچ گئی ہے۔

ثانیہ کہتی ہیں ’ آغاز انتہائی مشکل تھا۔ مجھے ہر قدم پر نکتہ چینی سننے کو ملی۔ جب میں نے ٹینس کا ریکٹ پکڑا تب تو یہ کوئی سوچتا بھی نہیں تھا کہ لڑکیاں ومبلڈن کھیلنے جائیں۔ جب میں نے سنہ 2003 میں جونیئر ومبلڈن کا خطاب جیت لیا تب جا کر لوگوں نے مجھ سے معافی مانگی۔‘

ثانیہ مرزا کے مطابق گذشتہ 20 برسوں میں بہت کچھ بدلا ہے لیکن بنیادی چیزیں ابھی نہیں بدلی ہیں۔ تو کیا بھارت میں تیز دھوپ میں ٹینس کھیلنے پر رنگ کے سیاہ ہونے کے ڈر سے ہی لڑکیاں اس کھیل میں نہیں آتیں؟

اس سوال کے جواب میں ثانیہ نے کہا ’بھارت میں خواتین کو کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں اس حوالے سے مختلف آراء ہیں۔ دھوپ کی وجہ سے سیاہ ہونے کا ڈر ایک وجہ تو ہے ہی جس کی وجہ سے ٹینس اور گالف میں لڑکیاں نہیں نظر آتیں لیکن ان کھیلوں میں آپ کو ملک سے باہر دنیا کا سفر کرنا ہوتا ہے اور دوسری کئی چیزوں کو بھی قربان کرنا ہوتا ہے۔‘

تہذیب و ثقافت کا اثر

کیا مذہب اور ذات کا بھی کھیل پر کوئی اثر ہوتا ہے۔ اس کے جواب میں ثانیہ کہتی ہیں ’اگر کوئی خاتون پروفیشنل کھلاڑی بننا چاہتی ہے تو اس میں مذہب اور ذات کا کوئی کردار نہیں ہوتا لیکن بر صغیر کی ثقافت کا اثر ضرور پڑتا ہے۔‘

سنہ 2005 میں ایک بنیاد پرست اسلامی گروپ نے ثانیہ مرزا کے سکرٹ پہن کر ٹینس کھیلنے کے حوالے سے دھمکی دی تھی۔

سنہ 2008 میں ثانیہ نے اعلان کیا تھا کہ وہ بھارت کی جانب سے ٹینس نہیں کھیلیں گی تب ان پر آسٹریلیا میں ہندوستانی پرچم کی توہین کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ ان الزامات کے تحت بھوپال شہر میں ان پر مقدمہ بھی درج ہوا تھا۔

ان تلخ تجربات کے بارے میں ثانیہ کہتی ہیں ’میرے گھر اور خاندان والے ہمیشہ میرا ساتھ دیتے ہیں۔ اس وجہ سے میں ان تنازعات سے نکل پاتی ہوں۔‘

پاکستانی کرکٹ کھلاڑی شعیب ملک کے ساتھ ان کی شادی ہوئی تو اس جوڑی کو جنوبی ایشیا کی سلیبریٹی جوڑے میں شمار کیا جانے لگا۔

کرکٹر سے شادی کا فائدہ

ثانیہ مرزا اپنے شوہر کے بارے میں کہتی ہیں ’جو کھیل کو سمجھتے ہوں اور اعلیٰ سطح پر خود کھیل چکے ہوں ان سے شادی کا فائدہ تو ہوتا ہی ہے۔ ایک میچ ہارنے پر آپ کو ’شٹ اپ‘ کہنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ آپ کچھ گھنٹوں تک خاموش رہیں اور انھیں خود اس سے نمٹنے دیں۔ تسلیم کریں یا نہیں لیکن شادی میں ان باتوں کی اپنی ایک الگ اہمیت ہوتی ہے۔‘

ثانیہ مرزا کی کامیابی کے بعد بھی بھارت میں خواتین ٹینس کھلاڑیوں کی کمی ہے۔ عالمی سطح پر ٹاپ 500 کھلاڑیوں میں بھارت کی صرف دو کھلاڑی ہیں اور دونوں میں سے کوئی بھی گرینڈ سلیم میں حصہ نہیں لیتا۔

شاید یہ بھی ایک وجہ رہی ہو جس کی وجہ سے ثانیہ نے گزشتہ برس بھارتی شہر حیدرآباد میں ٹینس اکیڈمی شروع کی ہے۔

ثانیہ کے مطابق ’لوگ مجھ سے بار بار پوچھتے ہیں کہ میرے بعد کون؟ گزشتہ دس برس سے تو میں ہی ہوں۔ ایسے میں میں نے اس سمت میں کچھ کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ بھارت میں ٹینس کو قائم رکھا جا سکے۔ نہیں تو میرے ریٹائر ہونے کے بعد تو کوئی ہوگا ہی نہیں۔‘