سعودی سکول میں خواتین کو کھیلنے کی اجازت

،تصویر کا ذریعہOLIVIER MORIN AFP Getty Images
سعودی عرب کے شہر جدہ میں لڑکیوں کے ایک سکول نے ملک کی شوریٰ کمیٹی کی جانب سے لڑکیوں کے کھیلوں میں حصہ لینے پر پابندی ہٹانے کے اعلان کے بعد طالبات کو کھیلنے کی اجازت دے دی ہے۔
تفصیلات کے مطابق امل نامی اس سکول کی طالبات نے گذشتہ ہفتے سکول کی جانب سے منعقد کیے جانے والے والی بال ٹورنامنٹ میں حصہ لیا۔ امل سکول نے اس کے ساتھ ساتھ لڑکیوں کے لیے ہاکی، باسکٹ بال اور ٹینس کھیلنے کی سہولیات بھی فراہم کی ہیں۔
واضح رہے کہ سکول نے یہ فیصلہ گذشتہ ماہ اپریل میں ملک کی شوریٰ کمیٹی کی طرف سے لڑکیوں کے کھیلنے کے متعلق اعلان کے بعد کیا گیا ہے۔ شوریٰ کمیٹی نے طویل اور گہرے نظر ثانی کے بعد یہ فیصلہ کیا تھا کہ طالبات پر کھیلوں میں حصہ لینے کی پابندی کو ختم کیا جائے۔

،تصویر کا ذریعہOmar Salem AFP Getty Images
تاہم ڈیڑھ سو افراد پر مشتمل مردوں کی اس کمیٹی کو قانون بدلنے کی طاقت حاصل نہیں ہے۔ شوریٰ کمیٹی صرف تجویز دے سکتی ہے جس کے بعد حتمی فیصلہ وزارتِ تعلیم کرتی ہے۔
شوریٰ کمیٹی نے مرحوم مفتیِ اعظم شیخ عبدالعزیز بن باز کے اس بیان کا حوالہ بھی دیا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ خواتین ’اسلامی قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے‘ کھیلوں میں حصہ لے سکتی ہیں۔
یاد رہے کہ سعودی عرب میں نجی سکولوں میں لڑکیوں کے کھیلنے پر پابندی کے حوالے سے پہلے ہی نرمی برتی جا چکی ہے۔
لڑکیوں اور لڑکوں کے علیحدہ علیحدہ سکولوں کے نظام والے اس ملک میں لڑکیوں کے کھیلوں میں حصہ لینے کا مباحثہ ایک حساس موضوع ہے۔
سعودی عرب نے 2012 میں بین الاقوامی دباؤ کے بعد لندن اولمپکس میں پہلی بار سعودی خواتین کھلاڑیوں کو حصہ لینے کی اجازت دی تھی۔ ان اولمپکس میں شامل ہونے والی دو سعودی ایتھلیٹس نے سر اور جسم ڈھانپ کر کھیلوں میں شرکت کی تھی۔
تاہم حقوقِ انسانی کی تنظیم کا کہنا ہے کہ اس کے باوجود سعودی عرب میں لاکھوں خواتین کھیلوں سے محروم ہیں۔



