’کرکٹ کے لیے اپنی خدمات پیش کرنا چاہتا ہوں‘

میچ فکسنگ کی تحقیقات کرنے والے جسٹس قیوم کمیشن کی سفارشات کی روشنی میں سنہ 2000 میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے سلیم ملک پر تاحیات پابندی عائد کردی تھی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنمیچ فکسنگ کی تحقیقات کرنے والے جسٹس قیوم کمیشن کی سفارشات کی روشنی میں سنہ 2000 میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے سلیم ملک پر تاحیات پابندی عائد کردی تھی
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اْردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سلیم ملک نے بدھ کو کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نجم سیٹھی سے ملاقات کی۔

اس ملاقات میں انھوں نے کرکٹ بورڈ کے چیئرمین سے اپیل کی کہ وہ ان کے معاملے پر نظرثانی کریں کیونکہ وہ کرکٹ میں اپنی خدمات پیش کرنا چاہتے ہیں۔

خیال رہے کہ میچ فکسنگ کی تحقیقات کرنے والے جسٹس قیوم کمیشن کی سفارشات کی روشنی میں سنہ 2000 میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے سلیم ملک پر تاحیات پابندی عائد کردی تھی۔

سنہ 2008 میں لاہور کی سیشن عدالت نے سلیم ملک کی اپیل پر تاحیات پابندی ختم کر دی تھی لیکن آئی سی سی نے اس فیصلے کو تسلیم نہیں کیا تھا جس کی وجہ کچھ عرصہ قبل یہ اطلاع سامنے آئی کہ سلیم ملک نے پاکستان کی قومی اکیڈمی کا کوچ بننے میں دلچسپی ظاہر کی تھی۔

ایسی اطلاعات کے بعد آئی سی سی نے پاکستان کرکٹ بورڈ سے اس حوالے سے وضاحت طلب کی تھی جس کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے سلیم ملک کو کسی قسم کا عہدہ دیے جانے کی تردید کی تھی۔

ادھر پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے کوچ کے عہدے کے مضبوط امیدوار وقاریونس نے بھی بدھ کو پی سی بی کے چیئرمین سے ملاقات کی۔

ان کے علاوہ منیجر اور چیف سلیکٹر معین خان بھی نجم سیٹھی سے ملے۔

واضح رہے کہ منگل کو معین خان نے ون ڈے کپتان کی ممکنہ تبدیلی کے بارے میں اظہارِ خیال کرکے نجم سیٹھی کو جوابی بیان دینے پر مجبور کر دیا تھا۔

نجم سیٹھی نے واضح کیا کہ کپتان کی تقرری کا اختیار صرف چیئرمین کو ہوتا ہے جب کہ سلیکشن کمیٹی کا کام صرف ٹیم منتخب کرنا ہے۔