اگلے دونوں میچ انتہائی اہم ہیں:کامران اکمل

،تصویر کا ذریعہAP
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ڈھاکہ
وکٹ کیپر کامران اکمل کو امید ہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم بنگلہ دیش اور ویسٹ انڈیز کے خلاف میچوں میں عمدہ کارکردگی دکھاکر سیمی فائنل میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوجائے گی۔
کامران اکمل ان چند ہی کھلاڑیوں میں شامل ہیں جو اب تک کھیلے گئے پانچوں ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کھیلے ہیں۔
کامران اکمل نے بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ بھارت کے خلاف شکست کے بعد ٹیم کا مورال نہیں گرا اور اس نے آسٹریلیا کے خلاف ایک اچھی جیت سے کم بیک کیا جس سے اس کے حوصلے بلند ہوئے ہیں اور انہیں یقین ہے کہ اگر ٹیم اپنے کوچ کے دیے گئے پلان کے مطابق کھیلی تو وہ سیمی فائنل میں ضرور آئے گی۔
کامران اکمل کا کہنا ہے کہ ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں کسی بھی ٹیم کو آسان سمجھنا بہت بڑی غلطی ہوتی ہے۔ پاکستان کے نقطہ نظر سے بنگلہ دیش اور ویسٹ انڈیز کے خلاف دونوں میچ انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ ویسٹ انڈیز ٹی ٹوئنٹی کی ایک خطرناک ٹیم ہے۔
آسٹریلیا کے خلاف اپنے چھوٹے بھائی عمراکمل کے ساتھ اہم شراکت کے بارے میں کامران اکمل کا کہنا تھا کہ محمد حفیظ اور احمد شہزاد کے جلد آؤٹ ہوجانے کے بعد دونوں بھائیوں پر اہم ذمہ داری آگئی تھی۔ انہیں خوشی ہے کہ عمر نے بہت ہی عمدہ اننگز کھیلی۔ کوچ نے انہیں فری ہینڈ دے کر بھیجا تھا کہ اپنا قدرتی کھیل کھیلو۔ ’ہم دونوں بھائیوں نے پہلے چھ اوورز تک چھ رنز کی اوسط سے رنز بنائے جس کے بعد عمر آسٹریلوی باؤلرز پر حاوی ہوگئے۔‘
واضح رہے کہ اس میچ میں عمراکمل نے چورانوے اور کامران اکمل نے اکتیس رنز سکور کیے تھے دونوں کی شراکت میں چھیانوے رنز بنے تھے۔
پاکستانی ٹیم میں واپسی کے بارے میں کامران اکمل کا کہنا ہےکہ ڈومیسٹک کرکٹ میں وہ اگرچہ ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹس میں رنز نہیں کرسکے لیکن فرسٹ کلاس اور ون ڈے میچوں میں کافی رنز کیے اور ان کے تجربے کی بنیاد پر ان پر اعتماد کیاگیا۔
کامران اکمل کہتے ہیں کہ ٹیم سے باہر ہونے کے باوجود وہ اپنی فارم اور فٹنس پر خاص توجہ دیتے رہے ہیں۔ فرسٹ کلاس کرکٹ اور کلب کرکٹ مستقل کھیلتے رہے ہیں اور جب بھی موقع ملتا ہے انضی بھائی ( انضمام الحق ) اور مشی بھائی ( مشتاق احمد ) سے مشورے لیتے ہیں۔ جتنا عرصہ ٹیم سے باہر رہے ان کی فیملی نے انہیں زبردست حوصلہ دیا۔
کامران اکمل کا کہنا ہے کہ ٹی ٹوئنٹی میں وہ ہمیشہ اوپنر کی حیثیت سے کھیلتے رہے ہیں لیکن اگر ٹیم منیجمنٹ انہیں کسی دوسرے نمبر پر بھی کھلائے گی تو انہیں کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔
اس ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں لیگ سپنرز کے کامیاب رہنے کے بارے میں کامران اکمل کا کہنا ہے کہ کنڈیشنز سپنرز کے لیے مددگار ہیں ۔جہاں تک مشرا، شاہد آفریدی اور عمران طاہر کے کامیاب رہنے کا تعلق ہے توتینوں لیگ سپن میں بہت پختہ ہوچکے ہیں اسی لیے کامیاب ثابت ہورہے ہیں۔
کامران اکمل کہتے ہیں کہ کلائی سے باؤلنگ کرنے والے لیگ سپنر کہیں بھی باؤلنگ کریں وہ کامیاب رہتے ہیں اور وہ کسی بھی وقت میچ کا نقشہ بدل دیتے ہیں۔



