افغانی بلےبازوں کو سپن کے جال میں پھنسا کر بھارت کامیاب

،تصویر کا ذریعہGetty
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
شاہد آفریدی کا طوفان ایک نہیں بلکہ دو ٹیموں کو راستے سے ہٹاتا ہوا پاکستانی ٹیم کو فائنل میں لے جا چکا ہے ان دو ٹیموں میں سے ایک بھارت نے بدھ کو محض رسمی کارروائی بن جانے والے میچ میں افغانستان کو آٹھ وکٹوں سے شکست دے دی۔
خانہ ُپری کرنے والے دوسرے میچ میں جمعرات کو بنگلہ دیشی ٹیم سری لنکا کے مقابل ہوگی۔
وراٹِ کوہلی کو ٹاس جیت کر افغانستان کی بیٹنگ قابو میں کرنے میں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا جس نے تیز بولنگ پر ایک وکٹ کھو کر نصف سنچری مکمل کر لی تھی لیکن سپن کے جال میں پھنس کر صرف 159 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔
اس ٹورنامنٹ میں افغانستان کی ٹاپ آرڈر بیٹنگ کسی بھی میچ میں قابل ذکر کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر سکی۔
سمیع اللہ شنواری نے آٹھویں نمبر پر بیٹنگ کرتے ہوئے چھ چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 50 رنز سکور کیے جو ان کی ون ڈے میں پانچویں اور اس ٹورنامنٹ میں دوسری نصف سنچری تھی۔
بنگلہ دیش کے خلاف بھی انہی کی بیٹنگ اور اصغر استانکزئی کے ساتھ شراکت نے ٹیم کی حالت بہتر بنائی تھی۔
ایک مرحلے پر افغانستان نے ایک وکٹ پر 54 رنز بنائے تھے لیکن دس رنز کے اضافے پر چار وکٹیں گرگئیں جن میں سے تین کو رویندرا جڈیجا نےآؤٹ کیا۔ انھوں نے چوتھی وکٹ کپتان محمد نبی کی حاصل کی۔ دوسری جانب سے ایشون تین وکٹیں لے اڑے اور مشرا کے حصے میں ایک وکٹ آئی۔ اس طرح بھارتی سپنرز نے محمد شامی کی دو وکٹوں کو چھوڑ کر تمام آٹھ وکٹوں پر ہاتھ صاف کر دیا۔
بھارتی اوپنرز راہانے اور شیکھردھون کو پتہ تھا کہ جلدی کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ جیت بھی بہرحال انھیں گھر ہی واپس لے جائے گی لہٰذا انہوں نے ایک آسان وکٹ پر سکون سے بیٹنگ کرتے ہوئے فتح کے لیے درکار 160 میں سے 121 رنز کم کر دیے۔
دھون نے 28 کے انفرادی سکور پر سمیع اللہ شنواری کے ہاتھوں گرنے والے کیچ کے بعد 60 رنز سکور کیے جو ان کی ساتویں نصف سنچری ہے۔
راہانے نے اپنی پانچویں ون ڈے نصف سنچری سکور کی۔
دونوں کی وکٹیں گرنے کے بعد روہت شرما اور دنیش کارتک نے 33 اووروں میں بھارت کو کامیابی دلا دی۔



