آفریدی نے پھر غضب ڈھایا، پاکستان فائنل میں
ایشیا کپ کے میچ میں پاکستان، بنگلہ دیش کے 326 کے پہاڑ جیسے ہدف کو سر کر کے فائنل میں پہنچ گیا ہے۔سنیچر کو فائنل میں پاکستان کا مقابلہ سری لنکا سے ہوگا۔
پاکستان کی طرف سے احمد شہزاد کی سنچری اور عبدالحفیظ کے باون رن کے بعد فواد عالم کے چوہتر اور آفریدی کی زبردست نصف سنچری نے پاکستان کی اس ناقابل یقین فتح میں اہم کردار ادا کیا۔
آفریدی کے لگاتار چھکوں نے بنگلہ دیشی ٹیم کے چھکے چھڑا دیے۔ آفریدی نصف سنچری سکور کرنے کے بعد کچھ تکلیف میں نظر آ رہے تھے اور وہ رن آؤٹ ہو گئے۔
آفریدی کی جارحانہ انگز کا اندازہ اس بات سےلگایا جا سکتا ہے کہ انھوں نے صرف دو چوکے لگائے لیکن ان کی اننگز میں چھکوں کی تعداد سات تھی۔ انھوں نے پچیس گیندوں پر 59 رنز بنائے۔
آخری اور فتح کی شاٹ لگانے کا اعزاز عمر اکمل کو ملا۔
یہ میچ جو شاید بنگلہ دیش کے عوام کو ایک عرصے تک یاد رہے آخری اوور تک گیا۔ آخری اوور کی پہلی دو گیندوں پر عمر اکمل کوئی رن نہیں بنائے پائے۔ اس کے بعد انھوں نے ایک رن بنایا۔ اوور کی چوتھی گیند جو کے وائڈ بھی ہو سکتی لیکن اس پر رن لینے کی کوشش میں فواد عالم رن آؤٹ ہو گئے۔
آخری دو گیندوں پر جیتنے کے لیے تین رن چاہیں تھے جس میں سے ایک پر عمر اکمل نے چوکا مار دیا۔
میچ میں تین فیصلہ پاکستان کے خلاف گئے۔ میچ کے شروع ہی میں عبدالحفیظ کی ایک گیند پر بنگلہ دیشی اوپنر ایل بی ڈبلیو ہو گئے تھے لیکن ایمپائر نے یہ فیصلہ پاکستان کے خلاف دیا۔
اس کے بعد صہیب مقصود کے کیچ آؤٹ ہونے کا فیصلے پر بھی شک ظاہر کیا گیا۔ گیند ان کے بلے سے لگی نہیں تھی لیکن وہ وکٹ کے پیچھے آؤٹ قرار دیے گئے۔
آخری کے آخری اوور میں کندھوں سے اونچا اور پہنچ سے دور آف سٹمپ سے باہر کیے ہوئے باونسر کو وائڈ قرار نہیں دیا گیا۔
یاد رہے کہ پچھلی مرتبہ بھی ایشیا کپ کے فائنل میں پاکستان نے بنگلہ دیش کو فائنل میں شکست دے دی تھی اور اس میچ کے بعد بنگلہ دیش کے کھلاڑی رو پڑے تھے۔
پاکستان کے پہلے آؤٹ ہو کھلاڑی محمد حفیظ تھے جو 52 کے انفرادی سکور پر آؤٹ ہوئے۔ حفیظ کے آؤٹ ہونے کے بعد مصباح الحق کھیلنے آئے ہیں۔ لیکن وہ ایک شاٹ کھیلنے کی کوشش میں شکیب الحسن کے ہاتھوں بولڈ ہو گئے۔

،تصویر کا ذریعہGetty
مصباح الحق کے بعد صہیب مقصود بھی نہ جم سکے اور فوراً ہی آؤٹ ہو گئے۔
اس میچ میں پاکستان کی سب سے بڑی بدقسمتی عبدالرحمان کی ایک فاش غلطی ثابت ہوئی جس کے باعث انھیں میچ میں بالنگ کرنے کے لیے نااہل قرار دے دیا گیا۔
عبدالرحمان نے اپنے پہلے اوور کی تین گیندیں نو بال کروائیں جن میں سے دوسری اور تیسری گیند ’بیمر‘ یعنی بالے باز کی کمر سے اونچی تھیں جو ناصرف نو بال قرار دی گئیں بلکہ انھیں اس میچ میں مزید بالنگ کرنے کے لیے نااہل بھی کر دیا گیا۔عبدالرحمان کی جگہ یہ اوور فواد عالم نے مکمل کیا۔
پاکستان نے ٹیم میں دو تبدیلیاں کی تھیں۔ جنید خان اور شرجیل خان کی جگہ عبدالرحمان اور فواد عالم کو ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔
بنگلہ دیش کے بلے بازوں نے انتہائی جارحانہ کھیل پیش کیا اور کسی بھی پاکستانی بالر کو خاطر میں نہیں لائے۔
بنگلہ دیش کے اوپنر انعام الحق نے سنچری سکور کی جبکہ ان کے بعد آنے والے تین کھلاڑیوں امرالقیس، معین الحق اور مشفق الرحیم نے بالترتیب 59، 51 اور 51 رن بنائے۔
شکیب الحسن نے آخر میں جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے صرف سولہ گیندوں پر 44 رن سکور کیے۔
سعید اجمل اپنے آخری چار اوور میں سب سے مہنگے ثابت ہوئے اور انھیں آخری چار اوور میں باؤن رن پڑے۔
بنگلہ دیش نے آخری دس اوور میں ایک سو بارہ رن سکور کیے۔
یوں بنگلہ دیش نے 326 کا بڑا ہدف صرف تین وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر لیا۔
ٹاس کے بعد مصباح الحق نے از راہِ مذاق کہا کہ انہوں نے ٹیم سے بات کی ہے اور ان سے کہا ہے کہ اس وقت تک نہ بھاگیں جب تک بال باؤنڈری تک نہ جائے۔
فائنل میں پہنچنے کے لیے پاکستان کو یہ میچ جیتنا ضروری ہے جبکہ سری لنکا نے تین میچوں میں مسلسل کامیابی کے بعد فائنل میں اپنی جگہ پکی کرا لی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ میرپور سٹیڈیم کی جو بھی پچ آج استعمال کی جائے اس سے زیادہ توقعات نہ رکھی جائیں۔ تاہم بھارت کے خلاف پاکستانی فاسٹ بولرز نے باؤنس کرایا تھا لیکن بنگلہ دیش یہ امید کرے گا کہ آج کے میچ میں ایسا نہ ہو۔
واضح رہے کہ ایک روزہ میچوں میں بنگلہ دیش کے خلاف پاکستانی آل راؤنڈر شاہد آفریدی نے سب سے زیادہ رنز بنائے ہیں اور سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کی ہیں۔
شاہد آفریدی نے بنگلہ دیش کے خلاف 468 رنز بنائے ہیں جبکہ 32 وکٹیں حاصل کی ہیں۔



