’فواد احمد کو وزیر کی مداخلت پر ویزا ملا‘

،تصویر کا ذریعہGetty
آسٹریلیا کے امیگریشن ڈیپارٹمنٹ نے پاکستانی نژاد آسٹریلوی لیگ سپنر فواد احمد کو طالبان سے خطرے کی بنیاد پر سیاسی پناہ کی درخواست مسترد کر دی تھی لیکن وزارتی مداخلت پر انھیں آسٹریلیا میں مستقل سکونت کا ویزا جاری کیاگیا تھا۔
برطانوی اخبار گارڈین کی ایک خصوصی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آسٹریلیا کے امیگریشن آفس اور پناہ گزینوں کے ایپلیٹ دفتر نے فواد احمد کی سیاسی پناہ کی درخواست کو مسترد کر دیا تھا لیکن جب فواد احمد نے امیگریشن وزیر کے پاس اپیل دائر کی تو وزیر کو مشورہ دیاگیا کہ فواد احمد کو چھ ماہ کا ویزا دیا جانا چاہیے۔
البتہ آسٹریلیا کے سابق امیگریشن وزیر کرس بوؤن نے اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے فواد احمد کو جولائی 2013 میں آسٹریلیا میں مستقل رہائش کا ویزا دے دیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty
لیگ سپنر فواد احمد نے اپنی ویزا کی درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ سوات میں انھیں طالبان سے خطرہ ہے جو ان کے کرکٹ کھیلنے اور نوجوانوں کو کرکٹ کی تربیت دینے کے مخالف ہیں۔
فواد احمد آسٹریلیا کی ون ڈے میچوں میں نمائندگی کر چکے ہیں۔ 2013 میں توقع کی جا رہی تھی کہ فواد احمد کو ویزہ ملنے کے بعد وہ انگلینڈ میں جاری ایشز سیریز میں کھیل پائیں گے لیکن ایسا نہیں ہوا۔
فواد احمد اس وقت آسٹریلیا کی اے سائیڈ کے مستقل ممبر ہیں اور توقع کی جا رہی ہے کہ انھیں جلد ہی آسٹریلیا کی ٹیسٹ ٹیم میں شامل کر لیا جائے گا۔
فواد احمد کے علاوہ ایک اور پاکستانی نژاد آسٹریلوی عثمان خواجہ ٹیسٹ اور ون ڈے میچوں میں آسٹریلیا کی نمائندگی کر چکے ہیں۔
امیگریشن ڈیپارٹمنٹ نے سابق وزیر کو مشورہ دیا تھا کہ چونکہ فواد احمد کا ’بارڈر لائن کیس‘ ہے اس لیے انھیں چھ ماہ کا ویزا دیا جانا چاہیے۔ وزیر کو دیے جانے والے مشورے میں کہاگیا تھا کہ اگر فواد احمد کو آسٹریلیا میں مستقل سکونت کا ویزا دیا گیا تو اس سے دوسرے درخواست گزاروں پر برا اثر پڑے گا جو اپنے کیس کا فیصلہ ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔
سابق وزیر کرس بوون نے گارڈین کو بتایا کہ انھوں نے فواد احمد کے کیس میں مداخلت کرنے کا فیصلہ ’عوامی مفاد‘ کے تحت کیا تھا۔
انھوں نے کہا کہ فواد احمد کو ویزا دینے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آسٹریلیا ایک’ رحمدل‘ اور ’شفیق‘ ملک ہے جو مصیبت میں پھنسے لوگوں کی مدد کرتا ہے۔
کرس بوون نے ایک بیان میں کہا کہ فواد احمد کے کیس میں ’وزارتی مداخلت‘ کا فیصلہ درست تھا، اور فواد احمد آسٹریلوی معاشرے میں بہترین اضافہ ہیں۔‘



