پاکستان کا ریورس سویپ، میچ پلٹ دیا

کپتان مصباح الحق 68 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنکپتان مصباح الحق 68 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستان نے چار دن کی بیزار کن کرکٹ کے بعد آخری دن ون ڈے کی شکل اختیار کرنے والا شارجہ ٹیسٹ سنسنی خیز مقابلے کے بعد پانچ وکٹوں سے جیت لیا۔

پاکستان کو میچ جیتنے کے لیے 59 اوورز میں302 کا ہدف ملا تھا جو اس نے صرف نو گیندیں قبل حاصل کر لیا۔

اظہر علی نے ٹیم میں واپسی کا جشن 103 رنز کی فتح گر اننگز کے ساتھ منایا۔ یہ ان کی پانچویں ٹیسٹ سنچری تھی۔

کپتان مصباح الحق 68 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔ دونوں نے پانچویں وکٹ کی شراکت میں قیمتی 109 رنز کا اضافہ کیا۔

میچ اور سیریز بچانے کے لیے سری لنکا کی لیگ سٹمپ کے باہر بولنگ کی منفی یا محتاط حکمت عملی غیر متوقع نہیں تھی لیکن پاکستانی بلے بازوں نے میچ جیتنے کی ہرممکن کوشش کے طور پر خطرہ مول لیتے ہوئے اس حکمت عملی کو ریورس سویپ کے ذریعے زائل کردیا۔

حالیہ دنوں میں کسی ٹیسٹ میچ میں بیسٹمینوں نے اتنے زیادہ ریورس سویپ نہیں کھیلے ہوں گے جو اس میچ میں دیکھنے میں آئے۔

اظہر علی نے ٹیم میں واپسی کا جشن 103 رنز کی فتح گر اننگز کے ساتھ منایا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناظہر علی نے ٹیم میں واپسی کا جشن 103 رنز کی فتح گر اننگز کے ساتھ منایا

اوپنرز خرم منظور اور احمد شہزاد نے مثبت سوچ کے ساتھ اننگز کا آغاز کر کے اپنے عزائم بتا دیے تھے۔ ان کے تیور دیکھ کر میتھیوز نے فیلڈر پھیلا دیے اور بولرز نے لیگ اسٹمپ سے باہر کا سپاٹ نظر میں رکھ لیا۔

دونوں اوپنرز جب آؤٹ ہوئے تو مجموعی سکور 48 رنز تھا۔ سکور میں دوگنا اضافہ ہوا تو یونس خان کی وکٹ بھی گر گئی لیکن وکٹ کیپر سرفراز احمد نے وننگ مشن کو جاری رکھتے ہوئے 46 گیندوں پر چار چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 48 رنز بنا ڈالے جس میں اظہر علی کے ساتھ 89 رنز کی اہم شراکت بھی شامل تھی۔

اظہر علی اور مصباح الحق کو سری لنکن بولنگ سے زیادہ شام کے گہرے سائے سے خطرہ تھا لیکن اندھیرا ہونے سے قبل ہی جیت کی کرن نظر آگئی۔

میچ کے چوتھے دن تک یہ میچ ڈرا کی جانب اشارہ کر رہا تھا جس کی بڑی وجہ سری لنکن بلے بازوں کی سست روی اور بولرز کی محتاط بولنگ تھی لیکن پاکستانی ٹیم آخری دن میچ جیت کر سیریز برابر کرنے میں کامیاب ہوگئی۔

اظہر علی مین آف دی میچ اور سری لنکن کپتان میتھیوز مین آف دی سیریز رہے۔

محمد طلحہ اور عبدالرحمان نے اس میچ میں متاثر کن بولنگ کی۔ طلحہ کی دوبارہ ٹیسٹ کرکٹ میں واپسی ہوئی ہے انھوں نے پہلا ٹیسٹ سری لنکا ہی کے خلاف لاہور میں کھیلا تھا یہ وہ میچ تھا جس کے دوران سری لنکن ٹیم پر حملہ ہوا تھا۔ قذافی سٹیڈیم جیسی سپاٹ وکٹ طلحہ کو شارجہ میں بھی ملی لیکن انھوں نے پوری جان سے بولنگ کی اور اپنی رفتار سے اچھا تاثر چھوڑا۔

سعید اجمل کے لیے یہ میچ اور سیریز خاصی مشکل اور مایوس کن رہی جس میں وہ طویل بولنگ کر کے بھی سری لنکن بیٹسمینوں پر اپنا روایتی تاثر نہ چھوڑ سکے۔ اس سیریز میں ان کے ہاتھ 42 کی بھاری اوسط سے صرف دس وکٹیں لگیں۔

اس سیریز میں جنید خان قابل اعتماد بولر کے روپ میں دکھائی دیے۔ عمر گل اور محمد عرفان کی غیر موجودگی میں وہی پاکستانی پیس اٹیک کو سہارا دیے ہوئے ہیں۔

سیریز میں پاکستانی ٹیم ریفرل سسٹم کے معاملے میں بری طرح ناکام رہی۔ تین ٹیسٹ میچوں میں اس کا صرف ایک ریویو درست نکلا جبکہ 18 غلط ثابت ہوئے۔

شارجہ ٹیسٹ کے ساتھ ہی ڈیو واٹمور کا پاکستانی ٹیم کے ساتھ کوچ کی حیثیت سے تعلق بھی اپنے اختتام کو پہنچ گیا۔