نئے کھلاڑیوں سے ملا نیا حوصلہ

بلاول بھٹی نے سٹین اور مورکل کے دفاع میں شگاف ڈال کر بازی اپنے نام کر لی
،تصویر کا کیپشنبلاول بھٹی نے سٹین اور مورکل کے دفاع میں شگاف ڈال کر بازی اپنے نام کر لی
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

اپنا پہلا ون ڈے انٹرنیشنل کھیلنے والے فاسٹ بولرز بلاول بھٹی اور انور علی نے پاکستانی ٹیم کو نیا حوصلہ دے دیا۔

صرف ایک سو اکتیس رنز پر سات وکٹیں گرنے کے بعد دونوں کی قیمتی 74رنز کی شراکت کے سبب پاکستانی ٹیم 218 رنز تک پہنچنے میں کامیاب ہو سکی اور جب اس سکور کے دفاع کا وقت آیا تو یہی دونوں جنوبی افریقی بیٹنگ کے قدم روکنے میں پیش پیش تھے۔

آملہ اور سمتھ کے جلد آؤٹ ہونے کے بعد سکور کے 62 کے پہنچنے تک جنوبی افریقہ کے لیے سب اچھا تھا لیکن 61 رنز کے اضافے پر چار وکٹیں گنوانے کے بعد جیسے اونٹ پہاڑ کے نیچے آ گیا۔

انورعلی نے ایک سال نو ماہ بعد ون ڈے انٹرنیشنل میں واپس آنے والے ژاک کیلس اور ڈیوڈ ملر کی وکٹیں حاصل کیں تو بلاول بھٹی نے خطرناک ڈی کوک کی اہم وکٹ حاصل کی۔

شاہد آفریدی نے حسب معمول اپنے پہلے ہی اوور میں اے بی ڈی ویلیئرز کی قیمتی وکٹ حاصل کی۔

جے پی ڈومینی کی مزاحمت اس سے قبل کہ میچ وننگ پرفارمنس میں تبدیل ہوتی سعید اجمل اپنا کام دکھاگئے جس کے بعد بلاول بھٹی نے سٹین اور مورکل کے دفاع میں شگاف ڈال کر بازی اپنے نام کر لی۔

پاکستان کا آغاز محتاط لیکن پراعتماد ہرگز نہ تھا

انورعلی نے ژاک کیلس اور ڈیوڈ ملر کی وکٹیں حاصل کیں جبکہ 43 رنز بنائے
،تصویر کا کیپشنانورعلی نے ژاک کیلس اور ڈیوڈ ملر کی وکٹیں حاصل کیں جبکہ 43 رنز بنائے

دونوں اوپنرز ناکامی سے نکلنے کی کوشش میں زبردست دباؤ میں ہیں۔

ناصر جمشید محمد حفیظ کے بعد دوسرے خوش قسمت بیٹسمین ہیں جو مسلسل ناکامیوں کے باوجود ون ڈے ٹیم سے باہر نہیں ہو رہے ہیں۔

اس کی وجہ بھی محمد حفیظ ہی ہیں کیونکہ وہ اوپنر کے طور پر کھیلنے کے لیے تیار نہیں جس کی وجہ سے پاکستانی ٹیم لکیر کی فقیر بن کر ایک ہی بیٹنگ آرڈر سے کھیلے جا رہی ہے۔

نتیجہ یہ نکلا ہے کہ صہیب مقصود اور عمراکمل جیسے اٹیکنگ بیٹسمینوں کے بیٹنگ آرڈر مزید نیچے چلے گئے ہیں۔اگر اوپنرز اور محمد حفیظ رنز کے ڈھیر لگا رہے ہوتے تو شاید بات بن جاتی لیکن ان کی ناکامیوں کے ملبے تلے ٹیم دب چکی ہے۔

ناصرجمشید نے ایک ڈراپ کیچ اور رن آؤٹ سے دو بار بچنے کا بھی فائدہ نہیں اٹھایا۔

احمد شہزاد قدموں کو ہلائے بغیر وکٹ کیپر کو کیچ دے گئے اور جب ’ پروفیسر‘ چودہویں مرتبہ ڈیل سٹین کا شکار ہوئے تو 24 اوور میں سکور تین وکٹوں پر تہتر رنز تھا۔

محمد حفیظ نے اس سال جنوبی افریقہ میں کھیلے گئے پانچ ون ڈے میچز میں صرف ایک سو اٹھارہ رنز بنائے تھے جبکہ متحدہ عرب امارات میں پانچ میچز میں ان کے رنز کی تعداد محض ایک سو آٹھ رہی۔

ٹیم کے دو سب سے پڑھے لکھے بیٹسمین مصباح الحق اور صہیب مقصود بھی جنوبی افریقی بولنگ کو سبق نہ سکھاسکے۔ مصباح جتنی آسانی سے وکٹ کیپر کے ہاتھوں کیچ ہوئے اس پر وہ خود بھی حیران پریشان تھے ۔

عمراکمل کا ٹیلنٹ بجلی ہے کب آئے کب چلی جائے۔

صہیب مقصود پچھلے دو میچز کے برعکس عجلت پسندی کا شکار رہے۔اے بی ڈی ویلئرز اور عمران طاہر نے ان کے کیچز ڈراپ کیے۔ایک کیچ سمتھ اور فلینڈر کی غلط فہمی کی نذر ہوگیا اس کے باوجود انہوں نے گیند کو ہوا میں اچھال کر پویلین کی راہ لی۔

اس بار آفریدی کا کریز پر قیام نبستاً طویل رہا پچھلی اننگز کے مقابلے میں رنز بھی زیادہ کیے لیکن پاور پلے میں جب ان کی موجودگی ضروری تھی وکٹ سے ہٹ کر کھیلنے کا خمیازہ انہیں بھگتنا پڑا۔

بلاول بھٹی اور انورعلی نے اٹیک ہی بہترین دفاع ہوتا ہے کی پالیسی اختیار کرتے ہوئے کسی بھی بولر کو حاوی نہیں ہونے دیا۔ انور علی نے کیلس کو خاص ہدف بنایا جبکہ بلاول بھٹی عمران طاہر اور مورکل پر کچھ زیادہ ہی مہربان رہے۔