’انگلینڈ کی جانب سے 2016 تک کھیلنا چاہتا ہوں‘

انگلینڈ کے معروف بلے باز نے سنہ 2004 میں اپنے بین الاقوامی کریئر کا آغاز کیا تھا
،تصویر کا کیپشنانگلینڈ کے معروف بلے باز نے سنہ 2004 میں اپنے بین الاقوامی کریئر کا آغاز کیا تھا

انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے بلے باز کیون پیٹرسن نے کہا ہے کہ وہ کم از کم 2016 کے دورۂ جنوبی افریقہ تک اپنے ملک کے لیے کھیلنا چاہتے ہیں۔

33 سالہ پیٹرسن جمعرات کو برزبین میں آسٹریلیا کے خلاف شروع ہونے والی ایشز سیریز میں اپنا 100 واں ٹیسٹ میچ کھیلیں گے۔

کیون پیرٹس نے بی بی سی سپورٹس کو بتایا کہ جب تک ان کی فٹنس اجازت دے گی وہ انگلینڈ کے لیے کھیلتے رہیں گے۔

انگلینڈ کے معروف بلے باز نے سنہ 2004 میں اپنے بین الاقوامی کریئر کا آغاز کیا تھا۔

کیون پیٹرسن نے سنہ 2010 میں انگلینڈ کی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کو ٹی ٹوئنٹی کپ جتوانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

وہ انگلینڈ کی جانب سے ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں سب سے زیادہ یعنی 13,503 رنز بنا چکے ہیں۔

کیون پیٹرسن نے انگلینڈ کی جانب سے 99 ٹیسٹ میچوں میں 23 سنچریاں جبکہ 136 ایک روزہ میچوں میں 9 سنچریاں بنائی ہیں۔

ان کا کہنا تھا: ’ہم خوش قسمت ہیں کہ انھوں نے اپنی ٹیم کے لیے بہت کچھ کیا، ہم نے ٹی ٹوئنٹی کا عالمی کپ جیتنے کے علاوہ آسٹریلیا اور بھارت کو شکست دی۔‘

انھوں نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ انگلینڈ کی ٹیم ون ڈے کے عالمی کپ میں ہر ٹیم کو شکست دے کر چیمپیئن بنے۔

دوسری جانب آسٹریلیا کے آل راؤنڈر شین واٹسن نے کیون پیٹرسن کے بارے میں کہا ہے کہ وہ پیٹرسن کی میچ جتوانے کی صلاحیت سے پوری طرح آگاہ ہیں۔

شین واٹسن نے کیون پیٹرسن کو کرکٹ کا بہترین بلے باز قرار دیتے ہوئے کہا کہ انھوں نے ہر ٹیم کے خلاف رنز کیے ہیں۔

جنوبی افریقہ میں پیدا ہونے والے کیون پیٹرسن کو گذشتہ سال ستمبر میں اس وقت ٹیم سے نکال دیا تھا جب انھوں نے جنوبی افریقہ کے خلاف میچ کے دوران جنوبی افریقہ کی ٹیم کے کھلاڑیوں کو اپنی ٹیم اور بالخصوص اس وقت کے کپتان اینڈریو سٹراؤس کے بارے میں ’اشتعال آمیز‘ ٹیکسٹ میسجز بھیجے تھے۔