سچن تندولکر کا بین الاقوامی کرکٹ کو الوداع

بھارت کے کرکٹ آئکون کا بین الاقوامی کرکٹ کو پرنم آنکھوں سے الوداع
،تصویر کا کیپشنبھارت کے کرکٹ آئکون کا بین الاقوامی کرکٹ کو پرنم آنکھوں سے الوداع

بھارت کے کرکٹ کے بہترین بلے باز سچن تندولکر نے بین الاقوامی کرکٹ کو الوداع کہتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں یقین نہیں آ رہا ہے کہ ان کا یہ شاندار سفر ختم ہو چکا ہے۔

دو سو ٹیسٹ میچوں پر محیط 40 سالہ کرکٹ آئیکون کا 24 سالہ کیریئر ان کے پہلے ٹیسٹ کے ایک دن قبل ختم ہو گيا۔

انھوں نے اس میچ میں دو اوورز کیے لیکن کوئی وکٹ نہ لے سکے تاہم بھارت نے ویسٹ انڈیز کو ایک اننگز اور 126 رنزسے شکست دے دی۔

بھارتی کھلاڑیوں نے سچن کو گارڈ آف آنر پیش کیا اور انہیں متعدد ایوارڈز سے نوازا گیا۔

اس موقعے پر انھوں نے کہا: ’میری زندگی 22 گز کے درمیان 24 سال سے تھوڑا زیادہ مدت پر محیط رہی۔ میرے یہ یقین کرنا مشکل ہو رہا ہے کہ میرا سفر ختم ہو رہا ہے۔‘

’مجھے بات کرنے میں تکلیف ہو رہی ہے لیکن میں اپنے جذبات پر قابو پا لوں گا۔ میری زندگی میں سب سے اہم شخصیت میرے والد کی ہے اور میں سنہ 1999 میں ان کے انتقال کے بعد سے انہیں بہت زیادہ یاد کرتا ہوں۔ ان کی رہنمائی کے بغیر میں یہاں آپ کے سامنے کھڑے ہونے کے قابل ہوتا۔‘

سچن تندولکر نے قریب 20 منٹ تک اپنے مداحوں سے بات کی۔

انھوں نے کہا ’جب ایم ایس دھونی نے مجھے دو سویں ٹیسٹ کیپ پہنائی تو میں نے ٹیم کے لیے ایک مختصر بیان دیا تھا جسے میں یہاں آپ کے سامنے دہرانا چاہتا ہوں۔

’میرے خیال میں ہم تمام لوگ خوش قسمت ہیں اور بھارت کی کرکٹ ٹیم کا حصہ ہونے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ آپ لوگوں سے متعارف ہوکر میں یہ جان گيا ہوں کہ آپ صحیح حوصلے اور اقدار کے ساتھ ملک کی خدمت کریں گے۔‘

عالی کرکٹ تنظیم آئی سی سی نے انہیں 664 بین الاقوامی میچز کھیلنے اور سو سنچری کے ساتھ 34357 رنز بنانے کے لیے ان کو خراج عقیدت پیش کیا۔

سچن تندولکر نے اپنے 200ویں اور آخری ٹیسٹ میچ میں 74 رنز بنائے
،تصویر کا کیپشنسچن تندولکر نے اپنے 200ویں اور آخری ٹیسٹ میچ میں 74 رنز بنائے

آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو ڈیوڈ رچرڈسن نے جو جنوبی افریقہ کی جانب سے 1990 کی دہائی میں سچن کے خلاف میچ کھیلے تھے کہا ’وہ مخصوص کھلاڑی تھے جنہیں ان کی صلاحیت، کھیل کے مظاہرے اور زبردست مقابلہ کے لیے اپنے زمانے کے کرکٹروں، ٹیم کے کھلاڑیوں، حریف کھلاڑیوں اور دنیا بھر میں پھیلے کرکٹ کے شائقین کی جانب سے سب سے زیادہ عزت ملی۔‘

سچن تندولکر کے آخری ٹیسٹ میں بھارت نے مہمان ٹیم ویسٹ انڈیز کو ایک اننگز اور 126 رنز سے شکست دے دی ہے۔ اس طرح بھارت نے دو میچ کی یہ سیریز دو صفر سے جیت لی۔

یہ میچ غیر متوقع طور پر تیسرے دن کھیل کے پہلے سیشن میں ہی ختم ہو گیا۔ ویسٹ انڈیز کی پوری ٹیم دوسری اننگز میں محض 187 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔ پہلی اننگز کی طرح دوسری اننگز میں بھی پرگیان اوجھا نے پانچ وکٹ لیے۔

ممبئی کے وانکھیڑے سٹیڈیم میں سچن تندولکر کو الوداع کہنے کے لیے شائقین کی بڑی تعداد موجود تھی۔ جیت اور کرکٹ کو الوداع کہنے کے جذبے سے مغلوب سچن تندولکر کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے۔

اپنی آخری ٹیسٹ میچ اننگز میں سچن تندولکر نے 74 رنز بنائے۔ انھوں 200 اننگز میں 78۔53 کی اوسط سے 15921 رنز بنائے جس میں 51 سنچری اور 68 نصف سنچریاں شامل ہیں۔

شائقین کو ایک موہوم سی امید تھی کہ اگر ویسٹ انڈیز اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتا ہے تو شاید سچن کو دوسری اننگز میں کھیلتے ہوئے دیکھنے کا موقع مل جائے۔

دوسری جانب اپنا 150واں میچ کھیلنے والے ویسٹ انڈیز کے چندر پال نے 41 رنز بنائے۔ جبکہ وکٹ کیپر رام دین نے سب سے زیادہ 53 رنز بنائے اور آؤٹ نہیں ہوئے۔

پراگیان اوجھا کو میچ میں 10 وکٹیں لینے کے لیے مین آف دی میچ کا ایوارڈ سے نوازا گیا۔

بھارت کے روہت شرما کو دونوں ٹیسٹ میچوں میں سنچری بنانے کے لیے مین آف دی سیریز دیا گیا۔ واضح رہے کہ یہ ان کی پہلی سیریز ہے اور انھوں نے اپنے پہلے دونوں میچوں میں سنچری بنانے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔

اوجھا نے اپنی اس کارکردگی کو سچن کے نام کرتے ہوئے کہا کہ وہ تا حیات اس میچ اور اس لمحے کو نہیں بھولیں گے۔

روہت شرما نے کہا کہ ابھی تو یہ میری شروعات ہے اور ہمارے سامنے بہت سے چیلنجز ہیں۔

سری لنکا کی حکومت کی جانب سے تندولکر کو سپیشل ٹرافی پیش کی گئی۔مہاراشٹر پولیس کی جانب سے بھی انہیں یادگار کے طور پر ٹرافی پیش کی گئی۔ واضح رہے کہ تندولرکے والد اس محکمے سے کچھ عرصے کے لیے منسلک رہے تھے۔

ویسٹ انڈیز کے کپتان ڈیرن سیمی نے کہا کہ وہ اس سیریز میں اپنی ٹیم کی کارکردگی سے مایوس ہیں۔ انھوں سچن تندولکر کو خراج عقیدت پیش کیا۔

بھارت کے کپتان مہندر سنگھ دھونی نے کہا کہ ’میچ صرف ان کے لیے نہیں بلکہ پورے بھارت کے لیے مخصوص ترین ہے اور اس کی وجہ سچن تندولکر ہیں۔‘