آخر کب تک۔۔۔ بیٹنگ کے عیب پر پردہ ڈالے بولنگ

- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ پاکستان اور جنوبی افریقہ میں اس وقت بُری بیٹنگ کون کررہا ہے ۔
دونوں ٹیموں کے بیٹسمینوں کو جارحانہ بولنگ کا سامنا ہے۔
شارجہ میں پاکستانی بیٹنگ صرف ایک سو چوراسی رنز کا ہدف حاصل نہیں کرسکی تھی اور اب دبئی میں پاکستانی بولنگ نے دو سو دس کے ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی جنوبی افریقی بیٹنگ کے پر کتر ڈالے۔
<link type="page"><caption> دبئی: دوسرے ایک روزہ میچ میں پاکستان کی فتح</caption><url href="Filename: http://www.bbc.co.uk/urdu/sport/2013/11/131101_pak_sa_2nd_odi_rwa.shtml" platform="highweb"/></link>
دبئی میں کھیلے جانے والے ون ڈے میچز میں وکٹوں کے اعتبار سے نمایاں شاہد آفریدی سعید اجمل اور محمد حفیظ کا ٹرائیکا اس بار بھی چھ وکٹیں لے اڑا۔
شاہد آفریدی کو پہلی ہی گیند پر وکٹ حاصل کرنے کی جیسے عادت ہوگئی ہے۔ اس بار ڈوپلیسی ان کا شکار بنے اگلے ہی اوور میں اے بی ڈی ویلیئرز کی اہم وکٹ انہوں نے حاصل کی اور پھر عمران طاہر کی آخری وکٹ حاصل کرکے انہوں نے ہی میچ ختم کیا اور مین آف دی میچ بن گئے۔
طویل قامت محمد عرفان ابتدا میں مہنگے ثابت ہوئے لیکن بعد میں وہ اپنے کپتان کو مایوس نہ کرتے ہوئے تین وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ سہیل تنویر نے اپنے پہلے ہی اوور میں وکٹ حاصل کی البتہ وہاب ریاض اس بار بھی خالی ہاتھ رہے۔
اس سے پہلے پاکستانی ٹیم ایک سو پچاس تک پہنچنے سے پہلے ہی اپنے تمام چھ مستند بیٹسمینوں سے محروم ہوچکی تھی اور گرتے پڑتے وہ دو سو نو رنز تک پہنچ پائی۔
کیا اس بات کو اب مان لیا جائے کہ ٹیم کو ایک بڑے اسکور تک پہنچنے کے لئے مصباح الحق کو ہی بڑا اسکور کرنا ہوگا کیونکہ جب وہ اٹھائیس ویں اوور میں آؤٹ ہوئے تو پاکستان کا اسکور ایک سو بارہ رنز تھا لیکن اگلے دس اوورز میں صرف چھتیس رنز کے اضافے پر احمد شہزاد۔ عمراکمل اور عمر امین کی وکٹیں گرچکی تھیں۔
عمراکمل کی غیرمعمولی صلاحیتوں کا ٹیم کی ضرورت سے کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ وہ اپنی مرضی اور موڈ کے مطابق ظاہر ہوتی ہیں۔
عمرامین چار روزہ کرکٹ کی کارکردگی پر ون ڈے کے لئے منتخب کیے گئے ہیں ظاہر ہے اپنے مزاج کے برعکس کی کرکٹ میں وہ اپنا سلیکشن کیسے درست ثابت کرسکتے ہیں۔

احمد شہزاد کی سیریز میں مسلسل دوسری نصف سنچری بھی ٹیم کے کام نہ آئی۔ انہیں یہ باور کرانے کی ضرورت ہے کہ انہیں ٹیم کے لیے کھیلنا ہے اپنی ذات کے لیے نہیں۔
سلیکٹرز کو اب ناصر جمشید کے بارے میں جلد فیصلہ کرنا ہوگا کیونکہ وہ انہیں اس بار اس دعوے کے ساتھ ٹیم میں لائے ہیں کہ وہ ماضی میں ٹیم منیجمنٹ کی غیرضروری مداخلت کے بجائے اب اپنے قدرتی اسٹائل میں کھیلیں گے لیکن اس سال بیس ون ڈے اننگز میں صرف دو نصف سنچریوں کی کارکردگی کسی طور بھی ناصر جمشید کو اگلے میچز میں کھلانے کا جواز پیدا نہیں کرسکتی کیونکہ وہ برائن لارا یا سچن تندولکر نہیں کہ ان کے فارم میں آنے کا انتظار ہی کیا جاتا رہے۔
شاہد آفریدی نے شارجہ کے مقابلے میں بہتر بیٹنگ کی اگر وہ آخری تین اوورز وکٹ پر ٹھہر جاتے تو یقیناً اسکور بورڈ پر رنز دو سو نو سے زیادہ ہوتے تاہم ان کے چار چوکوں سے سجے چھبیس رنز بھی موقع کے لحاظ سے اہم تھے۔
پاکستانی ٹیم نے سیریز برابر کرنے میں دیر نہیں لگائی ہے لیکن اسے اپنی خامیوں پر قابوپانے کی فوری ضرورت ہے کیونکہ ایسا لگتا ہے کہ بیٹسمین اپنے طور طریقے نہ بدلنے کا تہیہ کر بیٹھے ہیں۔ آخر کب تک بولرز بیٹنگ کے عیب پر پردہ ڈالتے رہیں گے؟
اگلے میچ میں پاکستانی ٹیم کو اس فارمولے سے نکلنا ہوگا کہ وننگ کامبی نیشن تبدیل نہیں ہوسکتا۔ ناصر جمشید وہاب ریاض اور عمرامین اپنی باری لے چکے اب اسد شفیق صہیب مقصود اور جنید خان کی باری ہے۔



