مصباح کی شکایت پر دو شائقین سٹیڈیم سے باہر

متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی میں پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان کھیلے جانے والے دوسرے ٹیسٹ میچ کے تیسرے روز سٹیڈیم سے دو شائقین کو میدان سے نکال دیا گیا ہے۔
امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق سٹیڈیم کے سکیورٹی اہلکاروں نے دو پاکستانی تارکین وطن کو سٹیڈیم سے باہر نکال دیا۔
سٹیڈیم کی سکیورٹی نے ان دو شائقین کو اس وقت نکالا جب وہ مبینہ طور پر پاکستانی کرکٹ ٹیم کو برا بھلا کہہ رہے تھے۔
دوسرے ٹیسٹ میچ کے تیسرے روز کا کھیل کھانے کے وقفے کے لیے طے شدہ وقت سے پانچ منٹ پہلے روک دیا گیا تھا۔ کھیل اس وقت روکا گیا جب پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق نے امپائرز راڈ ٹکر اور ایئن گوڈ کو شکایت کی کہ شائقین بدتمیزی کر رہے ہیں۔
کپتان مصباح الحق کی شکایت کے بعد سٹیڈیم کی سکیورٹی نے دو شائقین صدیق امین اور مشتاق امین کو سٹیڈیم سے باہر نکال دیا۔
دبئی سپورٹس سٹی کے ترجمان نے اے پی کو بتایا ’دو افراد آئی سی سی کے انسدادِ نسلی امتیاز کے کوڈ کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔ اس کوڈ کے مطابق آپ کسی کھلاڑی سے بدتمیزی یا ان کو برا بھلا نہیں کہہ سکتے۔‘
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے دبئی سپورٹس سٹی کے ترجمان نے کہا ’مصباح الحق صحیح راستہ اختیار کرتے ہوئے امپائرز کے نوٹس میں یہ بات لائے۔ سٹیڈیم کے سکیورٹی اہلکاروں کے نوٹس میں یہ بات لائی گئی جنہوں نے ان افراد کی نشاندہی کر کے ان کو سٹیڈیم سے باہر نکال دیا۔‘
اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے سٹیڈیم سے نکالے گئے صدیق امین نے کہا کہ وہ صرف مصباح سے درخواست کر رہے تھے ایک روزہ سکواڈ میں یونس خان کو بھی شامل کیا جائے۔
’ہم ابو ظہبی سے یہ میچ دیکھنے کے لیے دبئی آئے ہیں۔ نہ ہم نے کوئی بدتمیزی کی ہے اور نہ ہی کوئی چیز کھلاڑیوں پر پھینکی ہے۔‘
یاد رہے کہ میچ کے تیسرے روز کھانے کے وقفے سے قبل پاکستان نے دوسری اننگز کے آغاز میں دو رنز بنائے تھے اور اس کے دونوں اوپنرز آؤٹ ہو گئے تھے۔
گذشتہ ہفتے پاکستان کرکٹ بورڈ نے جنوبی افریقہ کے خلاف ایک روزہ میچوں کی سیریز کے لیے کیا تھا جس میں یونس خان کو شامل نہیں کیا گیا تھا جس پر یونس خان نے حیرانی کا اظہار کیا تھا۔
نکالے گئے شائقین کا کہنا تھا کہ ہو سکتا ہے میچ میں مشکل کی وجہ سے مصباح الحق غصے میں ہوں اور وہ غصہ انہوں نے شائقین پر نکالا ہو۔



