مصباح الحق تُسی گریٹ ہو

- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستانی کرکٹ ٹیم کا انداز سب سے منفرد ہے کہ نہ کھیلنے پہ آئے تو عالمی رینکنگ کی سب سے نچلی ٹیم زمبابوے سے بھی ہار جائے اور جب اپنے موڈ میں ہو تو عالمی نمبر ایک ٹیم بھی اس سے نہ بچ پائے۔
گزشتہ سال اسی ابوظہبی میں اسوقت کی عالمی نمبر ایک انگلینڈ کی ٹیم پر بھی حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے تھے اور آج کی عالمی نمبر ایک جنوبی افریقی ٹیم بھی حیران ہے کہ کیا یہ وہی پاکستانی ٹیم ہے جسے اس نے صرف دس ماہ پہلے کہیں کا نہیں چھوڑا تھا لیکن ابوظہبی میں سب کچھ بدل گیا۔
پاکستانی ٹیم ٹیسٹ میچ جیت گئی لیکن چالیس رنز کے معمولی ہدف کو پہاڑ جیسا بنانے کے بعد۔
ایک کے بعد ایک گرنے والی تین وکٹوں نے جوہانسبرگ ٹیسٹ یاد دلادیا جب پاکستانی ٹیم اپنی تاریخ کے سب سے کم اسکور49 پر ڈھیر ہوئی تھی لیکن اس بار ذہنوں میں آنے والے وسوسے کپتان مصباح الحق نے دور کردیے۔
پہلی اننگز میں بہتر پوزیشن میں بیٹنگ کرکے سنچری بنانے والے مصباح الحق نے دوسری اننگز میں خود کو اسی پوزیشن میں پایا جس میں وہ ابتدائی وکٹیں جلد گرنے کے بعد عام طور پر بیٹنگ کرتے ہیں لیکن پرسکون اور اعتماد سے وہ ٹیم کو ایک یادگار جیت سے ہمکنار کرگئے۔
تیسرے دن چار اہم وکٹیں حاصل کرلینے کے باوجود مصباح کو بخوبی اندازہ تھا کہ جنوبی افریقی ٹیم آسانی سے قابو نہیں آئے گی اسی لئے انہوں نے تمام وقت اپنے چاروں بولروں کوعمدگی سے استعمال کرتے ہوئے دباؤ برقرار رکھا۔

نائٹ واچ مین ڈیل اسٹین اور جے پی ڈومینی کی وکٹیں پاکستان کو جلد مل گئیں۔
لیکن اصل خطرہ اے بی ڈی ولیئرز سے تھا جو اسی گراؤنڈ پر تین سال پہلے پاکستانی بولنگ پر ڈبل سنچری بناچکے تھے ان کی مزاحمت سنچری سے دس رنز کی کمی پر ختم ہوئی تو گریم اسمتھ نوشتہ دیوار پڑھ چکے تھے۔
رابن پیٹرسن نے پاکستان کے خلاف کیپ ٹاؤن کی بیٹنگ کی یاد تازہ کرنے کی کوشش کی لیکن سعید اجمل کے مہلک وار نے ڈوپلیسس، فلینڈر اور مورکل کو شکار کرلیا اور پیٹرسن کے ہاتھ کچھ بھی نہ بچا۔
سعید اجمل کا غصہ اسوقت فطری تھا جب عدنان اکمل نے پیٹرسن کا کیچ ڈراپ کیا ۔ فلینڈر کا کیچ بھی وہ دوسری کوشش میں لے پائے۔
سعید اجمل کے بارے میں مصباح الحق زیادہ فکر مند تھے کہ جنوبی افریقی بیٹسمینوں کو ان کی بولنگ کے بارے میں کافی پتہ چل چکا ہے لیکن اجمل نے اس چیلنج کو قبول کیا اور ثابت کردیا کہ پاکستانی بولنگ انہی کے گرد گھومتی ہے۔

محمد عرفان اور جنید خان نے بھی اپنے کپتان کو مایوس نہیں کیا۔جبکہ سرپرائز پیکج ذوالفقار بابر نے کسی بھی موقع پر یہ احساس نہیں ہونے دیا کہ وہ اپنا پہلا ٹیسٹ میچ کھیل رہے ہیں جو اعتماد ان میں ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹی ٹوئنٹی کھیلتے ہوئے تھا وہ ابوظہبی میں بھی واضح طور پر موجود تھا۔
بابر ذوالفقار نے پہلی اننگز میں تین وکٹیں حاصل کرنے کے بعد وہ دوسری اننگز میں بھی دو کھلاڑی آؤٹ کرنے میں کامیاب رہے جن میں ہاشم آملا کی قیمتی وکٹ بھی شامل ہے۔



