محمد حفیظ کی ٹیسٹ ٹیم میں شمولیت غیر یقینی

- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان کرکٹ ٹیم کے اوپننگ بیٹسمین محمد حفیظ کے بارے میں ٹیم کے منیجر معین خان کے تازہ ترین بیان کو کئی اعتبار سے اہمیت دی جارہی ہے۔
معین خان نے محتاط انداز اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ محمد حفیظ کی موجودہ فارم اچھی نہیں ہے لہذا ہوسکتا ہے کہ وہ ٹیسٹ ٹیم میں شامل نہ ہوں جس کا فیصلہ سلیکٹرز کریں گے۔
معین خان کے اس بیان کے بعد جو پہلا سوال ذہنوں میں آیا ہے وہ یہ کہ معین خان نے یہ پالیسی بیان کس حیثیت میں دیا ہے؟ کیونکہ وہ سلیکشن کمیٹی کے سربراہ نہیں بلکہ ٹیم کے منیجر ہیں اور منیجر عام طور پر صرف غیرملکی دوروں میں ٹیم سلیکشن میں شریک ہوا کرتے ہیں۔
دوسرا سوال یہ کہ اگر محمد حفیظ کو ٹیسٹ ٹیم میں شامل نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے تو یہ بات کسی سلیکٹر کی طرف سے سامنے آنی چاہیے تھی۔
مسئلہ یہ ہے کہ اس وقت پاکستان کرکٹ بورڈ کی سلیکشن کمیٹی کا کوئی چیئرمین نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے نجم سیٹھی کو پاکستان کرکٹ بورڈ کا نگراں چیئرمین قرار دیتے ہوئے انہیں بڑے فیصلے کرنے سے روک رکھا ہے۔
نجم سیٹھی نے اقبال قاسم کے استعفے کے بعد معین خان ہی کو سلیکشن کمیٹی کا چیئرمین مقرر کیا تھا لیکن یہ تقرری اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے نتیجے میں کالعدم قرار دے دی گئی تھی جس کے بعد معین خان کو زمبابوے کے دورے کے لیے پاکستانی کرکٹ ٹیم کا منیجر مقرر کیا گیا اور اس معاہدے کی تجدید کرتے ہوئے انہیں جنوبی افریقہ کے خلاف متحدہ عرب امارات میں ہونے والی سیریز کے لیے بھی منیجر برقرار رکھا گیا ہے۔

بظاہر چیف سلیکٹر کے بغیر کام کرنے والی سلیکشن کمیٹی میں اس وقت اظہر خان، سلیم جعفر اور فرخ زمان شامل ہیں۔
پاکستانی کرکٹ کے معاملات پر گہری نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ معین خان اگرچہ اس وقت باضابطہ طور پر چیف سلیکٹر نہیں ہیں لیکن ان کے وسیع تجربے کے سبب کرکٹ بورڈ سلیکشن کے معاملات میں بھی ان کی رائے کو اہمیت دے رہا ہے۔ تاہم عدالتی فیصلے کے سبب کوئی بات ریکارڈ پر نہیں لائی جاسکتی۔
اس بارے میں دو رائے نہیں کہ معین خان کی موجودگی سے سلیکشن کمیٹی کا تجربہ اور اہمیت بڑھ سکتی تھی اور اگر اسلام آباد ہائی کورٹ مستقبل قریب میں پاکستان کرکٹ بورڈ کو چیف سلیکٹر مقرر کرنے کی اجازت دے دیتی ہے تو وہ یقیناً معین خان ہی کو یہ عہدہ دیں گے کیونکہ معین خان عصر حاضر کی کرکٹ کے تقاضوں کو اچھی طرح سمجھتے ہیں اور پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ پر بھی ان کی گہری نظر ہے جس کی بنا پر باصلاحیت کرکٹرز کو منتخب کرنے میں انہیں کوئی دشواری نہیں ہوسکتی۔
جہاں تک محمد حفیظ کو ٹیسٹ ٹیم میں شامل نہ کرنے کا تعلق ہے تو یہ فیصلہ غیرمتوقع نہیں ہوگا کیونکہ پچھلے دوسال سے ٹیسٹ میچز میں ان کی کارکردگی مایوس کن رہی ہے حالانکہ اس کے برعکس وہ ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے آئے ہیں۔



