الزام تراشی کےبجائے شکست کے اسباب پر نظر

آئندہ سیریز ڈیوڈ واٹ مور کا بھی امتحان ہے
،تصویر کا کیپشنآئندہ سیریز ڈیوڈ واٹ مور کا بھی امتحان ہے

پاکستانی کرکٹ ٹیم آئندہ ماہ جنوبی افریقہ کے خلاف ہوم سیریز متحدہ عرب امارات میں کھیلنے والی ہے اور عام خیال یہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ اس سیریز کا نتیجہ کوچ ڈیو واٹمور کے مستقبل کا تعین کرنے کے لیے کافی ہوگا۔

واٹمور گزشتہ سال مارچ میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کوچ مقرر کیے گئے تھے لیکن بحیثیت کوچ وہ ابھی تک ٹیسٹ سیریز نہیں جیت پائے ہیں جبکہ ان کا دو سالہ معاہدہ ختم ہونے میں صرف چھ ماہ باقی رہ گئے ہیں۔

ڈیو واٹمور کوزمبابوے جیسی کمزور ٹیم کے خلاف ٹیسٹ میچ کی شکست کے بعد سے سخت تنقید کا سامنا ہے اور متعدد سابق ٹیسٹ کرکٹرز نے ان کی برطرفی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

واٹمور کا کہنا ہے کہ زمبابوے کے خلاف ٹیسٹ میچ ہارنے سے انھیں سخت مایوسی ہوئی ہے ۔ ٹیم نے جس کارکردگی کا مظاہرہ کیا اس سے آپ میچ نہیں جیت سکتے۔ وہ کسی کو مورد الزام ٹھہرانے کے بجائے شکست کے اسباب دیکھ رہے ہیں تاکہ غلطیوں سے سبق سیکھا جائے اور خامیاں دور کی جائیں۔

واٹمور کا کہنا ہے کہ شائقین کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ زمبابوے کی ٹیم نے پاکستانی ٹیم کا سخت مقابلہ کیا ۔وہ اپنی ہوم کنڈیشنز میں بہت اچھی ٹیم ثابت ہوئی۔

واٹمور کا کہنا ہے کہ زمبابوے کے خلاف ٹیسٹ میچ کی شکست نے سب کو مایوس ضرور کیا ہے لیکن اس کا مثبت پہلو یہ ہے کہ اس سیریز نے جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز کی تیاری میں مدد دی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ انھیں اپنی ٹیم پر بھروسہ اور متحدہ عرب امارات میں کنڈیشنز زمبابوے سے مختلف ہوں گی۔

واٹمور کا کہنا ہے کہ جنوبی افریقہ کی ٹیم کی قوت اور متحدہ عرب امارات کی وکٹوں کو دیکھتے ہوئے پاکستانی ٹیم میں بھی تبدیلیاں ہوں گی۔

واٹمور اپنی کارکردگی سے مطمئن ہیں اور کہتے ہیں کہ انھوں نے اپنی ذمہ داری نیک نیتی اور دلجمعی سے نبھانے کی ہرممکن کوشش کی ہے اور یہ کہہ سکتے ہیں کہ رات وہ سکون سے سوتے ہیں لیکن اگر ان پر تنقید ہوتی ہے تو وہ لوگوں کی سوچ کو قابو نہیں کرسکتے۔کسی بھی دوسرے شخص کی طرح ان سے بھی غلطی ہوتی ہے جسے وہ تسلیم کرتے ہیں۔

واٹمور سے جب مصباح الحق کی کپتانی کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنا بہت آسان ہے۔ مصباح الحق سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنے والے کپتان ہیں۔ یہی کچھ ان کی بیٹنگ میں بھی جھلکتا ہے وہ ابتدا میں کچھ وقت لیتے ہیں لیکن بعد میں موثر ثابت ہوتے ہیں۔اس سال انھوں نے مستقل مزاجی سے سکور کیا ہے۔