’سات میں سے پانچ ٹیسٹ سیریز جیتیں تو سب اچھا تھا‘

پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق کا کہنا ہے کہ ہر کھلاڑی کو اپنی کارکردگی اور فٹنس کے بارے میں جواب دہ ہونا چاہیے۔
انھوں نے کہا کہ اگر کسی کھلاڑی کی کارکردگی خراب ہے تو اسے یہ ذمہ داری قبول کرنی چاہیے اور کسی کے پیچھے چھپنا نہیں چاہیے۔
مصباح الحق نے بی بی سی کے نامہ نگار عبدالرشید شکور کو خصوصی انٹرویو میں کہا کہ ان کی کپتانی میں جب ٹیم نے سات میں سے پانچ ٹیسٹ سیریز جیتیں تو سب اچھا تھا۔
’لیکن اب مجھ پر دفاعی کپتان ہونے کا الزام عائد کیا جاتا ہے حالانکہ میری کپتانی میں کوئی فرق نہیں آیا۔ البتہ ٹیم کی خراب کارکردگی کی بنیادی وجہ بیٹنگ لائن کی ناکامی ہے۔‘
مصباح الحق نے کہا کہ جنوبی افریقہ میں بلے بازوں کا اعتماد جس بری طرح متاثر ہوا ٹیم اس کے اثرات سے ابھی تک نکل نہیں سکی۔
’یہ بیٹنگ لائن کی ذمہ داری ہے کہ اس کا کوئی نہ کوئی بلے باز اپنا کردار ادا کرتا رہے۔ ایک معقول سکور تک پہنچنے کے لیے ایک اننگز میں دو بلے بازوں کو لازمی بڑا سکور کرنا ہوتا ہے۔ ایک ہی بلے باز آخر کب تک سکور کر کے ٹیم کو بچاتا رہے گا؟ یہ ممکن نہیں۔‘
مصباح الحق نے کہا کہ زمبابوے جیسی ٹیم کے خلاف بھی دونوں ٹیسٹ میچوں میں پاکستانی ٹیم ایک بار بھی تین سو رنز نہ بنا سکی۔ حریف ٹیم کو دباؤ میں لینے کے لیے کم از کم ساڑھے تین سو، چار سو رنز کرنے ضروری ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ان پر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ اپنی ٹیم کو متحرک نہیں رکھتے۔ ’کپتان اپنی ٹیم کا حوصلہ اپنی کارکردگی سے ہی بڑھاتا ہے اور بحیثیت کپتان میں نے اپنی کارکردگی سے ٹیم کو متحرک رکھنے کی ہرممکن کوشش کی ہے۔ لیکن جب بیٹنگ لائن ناکام ہو رہی ہو تو پوری ٹیم دباؤ میں آجاتی ہے۔‘
مصباح الحق نے کہا کہ انھوں نے کبھی بھی دوسرے بلے بازوں کو ان کے نیچرل سٹائل میں کھیلنے سے روکنے کی کوشش نہیں کی، بلکہ ہر بلے باز کو فری ہینڈ اور اعتماد دیا ہے کہ وہ اپنے قدرتی انداز میں بیٹنگ کرے۔
انھوں نے کہا کہ دنیا کی ہر ٹیم پر مشکل وقت آتا ہے، پاکستانی ٹیم بھی اس وقت مشکلات کا شکار ہے لیکن انھیں امید ہے کہ وہ بہت جلد اس صورت حال سے نکل آئے گی۔
کرکٹ ٹیم کے کپتان کا کہنا تھا کہ اسد شفیق، محمد حفیظ اور اظہر علی نے ماضی میں اہم اننگز کھیلی ہیں اور انھیں یقین ہے کہ ان کی فارم جلد واپس آجائے گی۔
مصباح الحق نے کہا کہ سلیکشن کمیٹی بااختیار ہے وہ ان کی کبھی سن لیتی ہے اور کبھی اپنے موقف پر قائم رہتی ہے، لیکن جو بھی فیصلے ہوتے ہیں وہ مشورے سے ہوتے ہیں۔



