منتظمین کی کام کی سہولیات نہ ہونے پر تشویش

قطر میں 2022 فٹ بال ورلڈ کپ کے منتظمین کا کہنا ہے کہ قطر میں غیر ملکی مزدوروں کے ساتھ غلاموں سے بد تر سلوک کے سلسے میں تحقیقاتی رپورٹ پر انھیں ’شدید صدمہ‘ ہوا ہے۔
قطر میں تارکین وطن کے ساتھ ناروا سلوک کے بارے میں برطانوی اخبار گارڈین نے ایک تحقیقاتی رپورٹ شائع کی ہے۔ ورلڈ کپ کے منتظمین کا کہنا ہے کہ قطری حکومت ان الزامات کا بغور جائزہ لے رہی ہے۔
برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق نیپال سے آنے والے افراد کے ساتھ جو سلوک کیا جاتا ہے ’وہ جدید دور کی غلامی‘ کے مترادف ہے۔
قطر 2022 کے منتظمین کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’قطر میں کسی فرد کے ساتھ ایسا سلوک کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔‘
گارڈین اخبار کی رپورٹ میں کہا گیا ہے:
- چار جون اور آٹھ اگست کے درمیان کم از کم 44 افراد کی ہلاکت دل کے عارضے کے باعث یا کام کرتے ہوئے حادثے کے باعث ہوئی۔
- شواہد موجود ہیں ورلڈ کپ انفراسٹرکچر پراجیکٹ کے لیے زبردستی کام کرایا جا رہا ہے۔
- نیپال سے تعلق رکھنے والے افراد کا کہنا ہے کہ ان کو کئی ماہ سے تنخواہیں نہیں ملیں اور ان کے پاسپورٹ بھی ضبط کر لیےگئے ہیں۔
- تعمیراتی منصوبوں کی سائٹ پر چند مواقعوں پر پینے کے صاف پانی تک رسائی سے انکار کیا گیا ہے۔
قطر 2022 کے منتظمین نے ایک بیان میں کہا ہے ’ہر وہ کارکن جو فیفا ورلڈ کپ 2022 کے انعقاد کے لیے کام کر رہا ہے اس کی صحت، حفاظت اور وقار منتظم کمیٹی کے لیے نہایت اہم ہے۔‘
قطری حکام کا اصرار ہے کہ جو لوگ ورلڈ کپ کے انعقاد میں کام کر رہے ہیں ان کے لیے اچھی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
بیان میں کہا گیا ہے ’ہمیں یقین ہے کہ وہ لوگ کو ورلڈ کپ کے انعقاد کے لیے کام کر رہے ہیں ان کی صحت، حفاظت اور وقار کا مطالبہ کرنا ان کا حق ہے۔‘
گارڈین اخبار کی رپورٹ سے قبل بی بی سی ریڈیو فائیو نے قطر 2022 کے چیف ایگزیکٹیو سے بات کی تھی۔
کارکنوں کے لیے کام کرنے کی سہولیات کے سلسلے میں ان کا کہنا تھا ’کارکنوں کے لیے سب سے اہم ان کی حفاظت، سکیورٹی، وقار اور صحت ہے۔‘
ورلڈ کپ 2022 پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ یہ ورلڈ کپ موسمِ گرما میں ہونا ہے اور وہاں بہت گرمی ہو گی۔
تین اکتوبر کو فیفا کی ایگزیکٹیو کمیٹی کی ملاقات ہو گی جس میں ممکنہ طور پر فیصلہ کیا جائے گا کہ یہ ورلڈ کپ موسمِ سرما میں منعقد کیا جائے۔



