تقرری پی سی بی کے آئین کی خلاف ورزی تو نہیں؟

نجم سیٹھی یہ بھی واضح کر چکے ہیں کہ وہ بہت جلد اپنے ٹی وی پروگرام میں واپس جانا چاہیں گے
،تصویر کا کیپشننجم سیٹھی یہ بھی واضح کر چکے ہیں کہ وہ بہت جلد اپنے ٹی وی پروگرام میں واپس جانا چاہیں گے
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

اپنی چڑیا کے ذریعے اہم خبریں بتانے کے لیے مشہور اینکر اور سینیئر صحافی نجم سیٹھی نے وزیراعلی ہاؤس کے بعد اب قذافی سٹیڈیم میں بھی عارضی پڑاؤ ڈال دیا ہے ۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے عبوری چیئرمین کی حیثیت سے جب نجم سیٹھی پی سی بی ہیڈ کوارٹر قذافی سٹیڈیم میں داخل ہوئے تو ان کا استقبال کرنے والے وہی چہرے موجود تھے جنہوں نے ذ کا اشرف اور اعجاز بٹ کو بھی مسکراہٹوں کے ساتھ خوش آمدید کہا تھا بلکہ کچھ چہرے تو ان میں ایسے بھی ہیں جو توقیر ضیا سے لے کر شہریار خان تک اور پھر ڈاکٹر نسیم اشرف کے بھی نام لیوا رہے ہیں۔

نجم سیٹھی کو ان شناسا چہروں میں گھلنے ملنے میں شاید زیادہ وقت نہ لگے کیونکہ وہ خود کسی لمبے عرصے کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ میں نہیں آئے ہیں البتہ وہ جن چہروں کے درمیان آ کر بیٹھے ہیں وہ کہیں جانے والے نہیں بلکہ انہیں آنے والے ہر نئے مہمان کو شیشے میں اتارنے کا فن بہت اچھی طرح آتا ہے۔

قذافی سٹیڈیم میں بیٹھے ان افسران پر ہی کیا موقوف، لاہور ہی کی طرح کے ایک بڑے شہر کی کرکٹ نرسری کے رکھوالے سے نجم سیٹھی کی تقرری کے نوٹیفکیشن کا انتظار بھی نہ ہوا اور انہوں نے بھی خیرمقدمی ای میل میڈیا میں جاری کرتے ہوئے مبارک سلامت کے ڈونگرے برسا دیے۔

نجم سیٹھی کی تقرری پر یہ سوال سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے کہ کیا یہ تقرری پاکستان کرکٹ بورڈ کے آئین کی خلاف ورزی تو نہیں؟

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کی تقرری کا اختیار ہمیشہ سے صدر مملکت کو رہا ہے اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے آئین میں حالیہ ردوبدل اور آئی سی سی کی جانب سے اس کی منظوری کے بعد اب بھی صدر مملکت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کی تقرری نہ سہی لیکن اس کے لیے ایک سے زائد نام تجویز کر سکتے ہیں لہذٰا قائم مقام یا عبوری چیئرمین کی تقرری کے معاملے میں وزیراعظم کی منظوری یا ان کی جانب سے ہدایت سمجھ سے باہر ہے جیسا کہ نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ انہیں وزیراعظم نے یہ ذمہ داری سنبھالنے کے لیے کہا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے آئین میں یہ نکتہ موجود ہے کہ چیئرمین کی پینتالیس دن سے زائد غیرموجودگی میں قائم مقام چیئرمین کو مقرر کرنے کا اختیار گورننگ بورڈ کو ہے جو اپنے ہی کسی رکن کو عارضی طور پر چیئرمین مقرر کر سکتے ہیں جسے محدود اختیارات حاصل ہوں گے دوسرا نکتہ یہ ہے کہ چیئرمین اپنی غیرموجودگی میں اپنی جگہ گورننگ بورڈ کے کسی رکن یا چیف آپریٹنگ آفیسر کو اپنے اختیارات تفویض کر سکتا ہے۔

نجم سیٹھی کو یہ اطمینان بھی ہے کہ آئی سی سی پاکستان کرکٹ بورڈ میں ہونے والی اس تبدیلی پر کوئی سخت قدم نہیں اٹھائے گی کیونکہ ان کے بقول آئی سی سی کی ہارڈ لائن میں نرمی آگئی ہے جس کا تعلق کرکٹ بورڈ میں سرکار کی جانب سے تقرری سے ہے۔

نجم سیٹھی یہ بھی واضح کر چکے ہیں کہ وہ بہت جلد اپنے ٹی وی پروگرام میں واپس جانا چاہیں گے اور ان کی ترجیحات میں آئی سی سی کے اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی اور ویسٹ انڈیز کے دورے کے لیے ٹیم کا سلیکشن قابل ذکر ہیں تاہم مبصرین اور ماہرین کے خیال میں نجم سیٹھی کے لیے ایک بڑا چیلنج پاکستانی کرکٹ کے اگلے پانچ سال کے نشریاتی حقوق کی منظوری ہوگی جس کے لیے پیشکشیں آئندہ ماہ طلب کی جانے والی ہیں۔