’کھلاڑی ہی نہیں سب کچھ بدل دیا جائے‘

پاکستان کے سابق وکٹ کیپر راشد لطیف کا کہنا ہے کہ صرف کھلاڑیوں کو ٹیم سے ڈراپ کرنا مسئلے کا حل نہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر پاکستانی کرکٹ کا مستقبل بچانا ہے تو سب کچھ تبدیل کرنا ہوگا جس میں تھنک ٹینک، ٹیم منیجمنٹ اور کوچنگ سٹاف شامل ہے۔
راشد لطیف نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ پاکستانی کرکٹ میں ناکامی کے اصل ذمہ دار تھنک ٹینک، ٹیم منیجمنٹ اور کوچنگ سٹاف ہیں کیونکہ انہی کی وجہ سے کرکٹرز مستقل بنیادوں پر کھیل رہے ہیں اوراگر وہ ڈراپ بھی ہوتے ہیں تو ایک ایک کر کے ٹیم میں واپس آجاتے ہیں۔
راشد لطیف نے کہا کہ پاکستانی کلچر میں کوچنگ سٹاف کی کرکٹرز سے دوستی کے سبب خراب کارکردگی پر بھی کرکٹرز کا احتساب نہیں ہو پاتا۔
انھوں نے کہا کہ اسی دوستی کے سبب جب کوچنگ سٹاف مشکل میں ہوتا ہے تو کرکٹرز اس کا ساتھ دیتے ہیں اور جب کرکٹرز مشکل میں ہوتے ہیں تو انہیں کوچنگ سٹاف سے مدد ملتی ہے اسی لیے وہ کوچنگ سٹاف کی تبدیلی کے حق میں ہیں۔
راشد لطیف نے کہا کہ اگر کوچنگ سٹاف صحیح معنوں میں پروفیشنل اور غیرجانبدار ہوگا تو وہ کرکٹرز کی غیرضروری حمایت نہیں کرے گا اور صرف وہی کرکٹر کھیلے گا جو فٹ ہوگا اور اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرے گا۔
سابق کپتان نے کہا کہ وہ پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے کوچ ڈیوواٹمور کو مورد الزام نہیں ٹھہراتے۔ غلطی انھیں لانے والوں کی ہے جنہوں نے واٹمور کو جوابدہ نہیں بنایا۔
راشد لطیف نے بی بی سی کے نامہ نگار عبدالرشید شکور کو بتایا کہ انھیں اس بات پر کوئی اعتراض نہیں کہ واٹمور نے اپنے ساتھ بڑی تعداد میں کوچنگ سٹاف رکھا ہوا ہے۔ ہرجگہ ایسا ہی ہوتا ہے لیکن جہاں ایسا ہوتا ہے وہاں نتائج بھی اچھے دیے جاتے ہیں اور مطلوبہ نتائج نہ دینے پر بازپرس بھی ہوتی ہے۔
راشد لطیف نے کہا کہ وہ وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ اسی پاکستانی ٹیم کا کوچ وسیم اکرم، انضمام ا لحق یا کسی دوسرے پاکستانی تجربہ کار کرکٹر کو بنا دیں تو ٹیم کی کارکردگی میں نمایاں تبدیلی آ جائے گی۔
سابق وکٹ کپیر کے مطابق انگلینڈ میں جاری چیمپئنز ٹرافی میں ٹیم کی مایوس کن کاررکردگی کے بعد میڈیا میں اب دوبارہ انہی کھلاڑیوں کو واپس ٹیم میں شامل کرنے کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ اس تبدیلی کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا کیونکہ ٹیم کو 34 اور 35 سال کے کرکٹرز کی نہیں بلکہ 20، اور 21 سال کے ان باصلاحیت کرکٹرز کی ضرورت ہے جو دس سال تک ٹیم میں رہتے ہوئے غیرمعمولی کارکردگی کا مظاہرہ کر سکیں۔



