فیفا کی ایگزیکٹو کمیٹی میں پہلی بار خاتون

وہ مزید خواتین کو منتخب کرنے کے لیے کام کریں گی اور والدین سے کہیں گی کہ وہ اپنے بیٹیوں کو فٹبال کھیلنے دیں:انسیکرا
،تصویر کا کیپشنوہ مزید خواتین کو منتخب کرنے کے لیے کام کریں گی اور والدین سے کہیں گی کہ وہ اپنے بیٹیوں کو فٹبال کھیلنے دیں:انسیکرا

فٹبال کے عالمی ادارے فیفا کی ایک سو نو سالہ تاریخ میں پہلی بار ایک خاتون کو ایگزیکٹو کمیٹی کا رکن منتخب کیا گیا ہے۔

موریش میں فیفا کے کانگریس اجلاس میں برونڈی فٹنال ایوسی ایشن کی صدر لیڈا انسیکرا سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے کے بعد چار سال کے لیے ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن بن گئی ہیں۔

چھیالیس سالہ لیڈا انسیکر کو دو سو تین ووٹوں میں سے پچانوے ووٹ ملے جبکہ ان کی مدمقابل امیدوار آسٹریلیا کے مویا ڈوڈ اور برطانیہ کے زیر انتظام جزائر ترکس، کائیکس سے سونیا بن ایمی تھیں۔ ان کو بلترتیب ستر اور اڑتیس ووٹ ملے۔

ایگزیکٹو کمیٹی کی رکن منتخب ہونے کے بعد لیڈا انسیکر نے کہا ’میں خواتین کی حوصلہ افزائی کروں گی کہ وہ اس بات پر یقین کریں کہ وہ رہنمائی کر سکتی ہیں، اور میں ممبر ایسوسی ایشنز میں خواتین کی حمایت کروں گی‘۔

لیڈا انسیکر سال دو ہزار چار سے افریقی ملک برونڈی کی فٹبال ایسوسی ایشن کی صدر ہیں،اس کے علاوہ عالمی فٹبال سال دو ہزار آٹھ اور سال دو ہزار بارہ اولمپکس فٹبال ٹورنامنٹ مقابلوں کی انتظامی کمیٹی کی ممبر تھیں۔

انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کی ممبر کے علاوہ انسیکر سال دو ہزار گیارہ میں فیفا کے اندر بدعنوانی کے مسئلے سے نمٹے کے لیے بنائی جانے والی ایک خودمختار کمیٹی کی ممبر ہیں۔

لیڈا انسیکر نے بی بی سی سے بات کرتے ہیں’پہلی خاتون منتخب ہونے پر بے حد خوش ہوں، یہ افریقہ کے لیے اہم ہے، یہ برونڈی کے لیے اور خواتین کے لیے اہم ہے‘۔

’ایگزیکٹو کمیٹی میں ہم ایک ٹیم کی طرح کام کرتے ہیں، لیکن ذاتی طور پر وہ نچلی سطح پر کھیلے جانے والے فٹبال میں مزید خواتین کوچ رکھنے کے لیے کام کریں گی‘۔

انہوں نے مزید کہا’ وہ مزید خواتین کو منتخب کرنے کے لیے کام کریں گی اور والدین سے کہیں گی کہ وہ اپنے بیٹیوں کو فٹبال کھیلنے دیں‘۔