سپاٹ فکسنگ کے الزام میں 3 بھارتی کرکٹر گرفتار

بھارت میں پولیس نے انڈین پریمیئر لیگ کے دوران سپاٹ فکسنگ کے الزام میں ’راجستھان رائلز‘ کے تین کھلاڑیوں اور گیارہ سٹہ بازوں کو گرفتار کر لیا ہے۔
گرفتار ہونے والے کھلاڑیوں میں بھارتی قومی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بالر سری سانت کے علاوہ انکت چوہان اور اجیت چنڈیلیا شامل ہیں۔ بھارتی کرکٹ بورڈ نے ان تینوں کو فوری طور پر معطل بھی کر دیا ہے۔
دہلی پولیس کے کمشنر نیرج کمار نے کہا ہے آئی پی ایل 6 کے تین میچوں میں سپاٹ فکسنگ ہوئی ہے جس میں راجستھان رائلز کے کھلاڑی ملوث تھے۔
جمعرات کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نیرج کمار کا کہنا تھا کہ یہ میچ بدھ کو ممبئی میں راجستھان رائلز اور ممبئی انڈینز، پانچ مئی کو جے پور میں راجستھان رائلز اور پونے وارئيرز اور نو مئی کو موہالی میں راجستھان رائلز اور کنگز الیون پنجاب کے مابین کھیلے گئے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ پولیس اپریل سے ہی کھلاڑیوں کے موبائل فونوں کی نگرانی کر رہی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ابھی تک یہ بات سامنے نہیں آئی کہ اس معاملے میں کوئی اور ٹیم بھی شامل تھی یا نہیں لیکن اس بات سے پوری طرح سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ اس معاملے کے تانے بانے ’انڈر ورلڈ‘ سے جڑے ہیں لیکن انہوں نے یہ بتانے سے انکار کیا کہ وہ کون گروہ ہے جو اس پورے معاملے کو کنٹرول کر رہا ہے۔
نیرج کمار نے اس سلسلے میں مزید گرفتاریوں کے امکانات کو بھی رد نہیں کیا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس کیس میں مکوکا کے تحت معاملے درج کیے جا سکتے ہیں۔
بھارتی کرکٹ بورڈ نے اس سلسلے میں ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ بورڈ کو ان واقعات سے تکلیف پہنچی ہے اور کرپشن کو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جائےگا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اس معاملے کی تفتیش کے سلسلے میں ہم دہلی پولیس اور دیگر حکام کو ہر ممکن تعاون فراہم کریں گے۔ آئی پی ایل کی گورننگ کاؤنسل کی میٹنگ ہوئی جس میں یہ فیصلہ کیا گيا ہے کہ اس میں جو بھی کھلاڑی ملوث پائے جائیں گے ان کے ساتھ سختی برتی جائے گی۔‘
بیان کے مطابق ان تینوں مذکورہ کھلاڑیوں کو تفتیش مکمل ہونے تک معطل کر دیا گيا ہے اور اگر قصور ثابت ہوا تو ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائےگی۔
اطلاعات کے مطابق اگر سپاٹ فکسنگ کے الزامات ثابت ہوجاتے ہیں تو ان کھلاڑیوں پر تاحیات پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔
راجستھان رائلز ٹیم کی مالک بالی وڈ کی اداکارہ شلپا شیٹی ہیں۔ انہوں نے اس سلسلے میں ایک ٹوئیٹ کے ذریعے اپنے ردِ عمل میں کہا ہے کہ انہیں اس خبر سے حیرت ہوئی ہے۔
ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ انہیں صرف یہ معلوم ہے کہ ان کے تین کھلاڑیوں کو پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا گيا ہے اور باقی تفصیلات کا پتا نہیں۔
اس سے پہلے بھی بھارت میں سپاٹ فکسنگ کا کیس منظر ِعام پر آیا تھا۔
بھارتی میڈیا کے فراہم کردہ شواہد کے مطابق گزشتہ سال مقامی ٹی ٹوئنٹی میچ میں بھارتی آل راؤنڈر ٹی پی سیوہندرہ نے پہلے سے طے شدہ وقت پر نو بال کروائی تھی۔ سپاٹ فکسنگ کے الزامات ثابت ہونے پر ان کے کرکٹ کھیلنے پر تاحیات پابندی عائد کی گی ہے جبکہ باقی چار کھلاڑیوں کو بھی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
واضح رہے کہ دہلی پولیس نے نوے کی دہائی کے آخر میں جنوبی افریقہ کی ٹیم کے سٹے بازی میں ملوث ہونے کی تحقیقات کی تھیں اور اس تحقیقات کے نتجے میں جنوبی افریقہ کے سابق کپتان ہنسی کرونیے کو کرکٹ کو خیرباد کہنا پڑا تھا۔



