
ملکھا سنگھ کی زندگی پر بالی وڈ میں ایک فلم بھی بن رہی ہے
بھارت کے معروف ایتھلیٹ اور اولمپئین ملکھا سنگھ دنیا بھر میں ’اڑن سنگھ‘ کے نام سے مشہور ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ یہ نام دینے پر وہ پاکستان کے شکرگزار ہیں۔
ملکھا سنگھ کو اڑن سنگھ کا نام پاکستان نے ہی دیا تھا۔ پاکستان کے سابق صدر جنرل محمد ايوب خان نے انہیں اڑن سنگھ (فلائنگ سنگھ) کے اعزاز سے نوازہ تھا۔
ملکھا سنگھ نے دلی کے گولف کلب میں خواتین کی ایک گولف ٹورنامنٹ کے دوران یہ بات بتائی اور وہ جذباتی ہوکر کہنے لگے کہ اس اعزاز کے لیے ’میں پاکستان کا شکرگزار ہوں‘۔
اس ٹورنامنٹ میں حصہ لینے پاکستان سے آنے والی گولفر سے معافی مانگتے ہوئے ملکھا سنگھ نے کہا ’میں نے انیس سو ساٹھ میں لاہور میں ہونے والی ایک دوڑ میں حصہ لینے کی دعوت کو ٹھکرا دیا تھا کیونکہ میں اس وقت تک تقسیم کی دردناک یادوں کو بھلا نہیں پایا تھے‘۔
تقسیم کے دنوں کو یاد کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں ’میں نے اس وقت لاشوں سے بھری ٹرینوں کو جو دیکھا تھا وہ میری آنکھوں سے اوجھل نہیں ہو پا رہی تھی۔‘
ملکھا سنگھ کے پاکستان نہ جانے کی خبر اگلے دن کےاخباروں کی سرخیاں بنیں ’ملکھا سنگھ پاکستان دوڑنے نہیں جائیں گے۔‘
جب یہ خبر اس وقت کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو کو ملی تو انہوں نے ملکھا سنگھ کو بلوايا اور ساری باتیں جاننے کے بعد انہیں سمجھایا کہ ساری پرانی باتیں بھول کر لاہور جاؤ، آج سے تمہارے ماں - باپ بھارت اور پاکستان ہیں۔
اس کے بعد ملکھا سنگھ واہگہ بارڈر کے راستے پاکستان پہنچے۔ انہیں کھلی جیپ میں لاہور لے جایا گیا۔ پندرہ کلو میٹر تک سڑک کے دونوں طرف کھڑی بھیڑ کے ہاتھوں میں اس وقت بھارت اور پاکستان کے پرچم لہرا رہے تھے۔
ملکھا سنگھ جب پاکستان پہنچے تو اگلے دن کے اخبارات کی سرخیاں تھیں- ’بھارت اور پاکستان کی ٹکر‘
ملکھا سنگھ کا مقابلہ عبد الخالد سے تھا۔ ان دنوں عبدالخالد کافی مشہور ایتھلیٹ تھے۔
ملکھا سنگھ یہ مقابلہ جیت گئے۔ اس ریس کو دیکھنے پاکستان کے اس وقت کے صدر جنرل ایوب خان بھی آئے تھے۔
ملکھا سنگھ کو میڈل دیتے وقت انہوں نے پنجابی زبان میں کہا ' ملکھا سنگھ، توسی پاکستان د وچ آکے دوڑے نئی، توسی اڑے ہو۔۔ آج پاکستان تینو فلائننگ سنگھ دا خطاب دیندیا اے'۔
ملکھا سنگھ کا کہنا ہے کہ پوری دنیا مجھے فلائنگ سنگھ کہتی ہے لیکن یہ کم لوگوں کو معلوم ہے کہ یہ خطاب مجھے پاکستان نے دیا۔






























