’پاکستان کی اولمپک رکنیت معطل ہو سکتی ہے‘

،تصویر کا ذریعہReuters

    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی (آئی او سی) نے پاکستان کو ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ کھیلوں کی قومی فیڈریشنز کے معاملات میں حکومتی مداخلت ختم نہ ہوئی تو وہ پاکستان کی اولمپک رکنیت معطل کردے گی۔

یہ صورتحال ایسے وقت پیدا ہوئی ہے جب پاکستان کو لندن اولمپکس میں شرکت کرنی ہے۔ پاکستان کی رکنیت معطل ہونے کی صورت میں پاکستان کی اولمپکس میں شرکت بھی خطرے سے دوچار ہوسکتی ہے۔

انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی نے پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر لیفٹننٹ جنرل (ریٹائرڈ) عارف حسن اور جوائنٹ سیکریٹری سپورٹس عبدالغفار خان کے ساتھ چار جون کی ملاقات کے بعد پچیس جون کی ڈیڈلائن مقرر کی تھی۔ اس کے بعد آئی او سی نے تین جولائی کو لکھے گئے خط میں ایک بار پھر پاکستانی حکومت کو یاد دلایا ہے کہ اس نے ان اعتراضات کو دور کرنے کےلیے کیا اقدام کیے ہیں جن کا تعلق قومی فیڈریشنز کی خود مختاری میں مداخلت سے متعلق ہے۔

انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی نے کہا ہے کہ پاکستان کے لیے یہ اہم وقت ہے کہ اس کے کھلاڑیوں کو لندن اولمپکس میں حصہ لینا ہے لیکن آئی او سی کا ایگزیکٹو بورڈ اس معاملے کا جائزہ لے گا اور اسے یہ حق حاصل ہے کہ وہ کوئی بھی قدم اٹھاسکتا ہے جس میں پاکستان کی اولمپک رکنیت کی معطلی بھی شامل ہے۔

دوسری جانب پاکستان سپورٹس بورڈ نے اس تنازعے کی دوسری فریق پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر لیفٹننٹ جنرل (ریٹائرڈ) عارف حسن کو ان کے عہدے سے ہٹانے کے لیے حکمت عملی وضع کرلی ہے۔ اس ضمن میں جمعرات کو پاکستان سپورٹس بورڈ کی ایگزیکٹیو کمیٹی کا اجلاس ہورہا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر کا یہ موقف ہے کہ اولمپک چارٹر کے تحت کھیلوں کی قومی فیڈریشنز کے معاملات میں حکومتی مداخلت نہیں ہوسکتی۔

اور حال ہی میں پاکستان سپورٹس بورڈ نے ایسے اقدامات کیے ہیں جن کے تحت کسی بھی کھیل کی قومی فیڈریشن کے عہدیدار اپنے عہدوں سے ہٹائے جاسکتے ہیں اور ان کے آئین میں تبدیلی بھی کی جاسکتی ہے جو اولمپک چارٹر کے منافی ہے۔

پاکستان سپورٹس بورڈ کا کہنا ہے کہ کوئی بھی عہدیدار چاہے وہ پاکستان کی کسی بھی قومی فیڈریشن کا ہو یا پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کا، وہ تیسری مدت کے لیے عہدہ نہیں رکھ سکتا۔

لیفٹننٹ جنرل ( ریٹائرڈ) عارف حسن نے فروری میں تیسری مدت کے لیے پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر کا عہدہ سنبھالا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کو اس بات پر اعتراض نہیں ہے کہ کسی ملک کی قومی اولمپک کمیٹی کے عہدیدار دو سے زائد مدت کے لیے عہدے اپنے پاس نہیں رکھ سکتے۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ سپریم کورٹ نے کسی طور بھی یہ نہیں کہا ہے کہ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے دوبارہ انتخابات کرائے جائیں۔