سن ٹی وی نے دکن چارجرز کو خرید لیا

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 25 اکتوبر 2012 ,‭ 11:28 GMT 16:28 PST
بی سی سی آئی کی میٹنگ

بی سی سی آئی نے اپنی گورننگ کونسل کی میٹنگ کے بعد یہ فیصلہ سنایا۔

جنوبی بھارت کے اہم ٹی وی نیٹ ورک جس پر سیاست داں اور تاجر دیا ندھی اور كلاندھی مارن کے مالکانہ حق ہیں ان کے ٹی وی نیٹ ورک سن نے حیدرآباد آئی پی ایل ٹیم کو خرید لیا ہے۔

سن ٹی وی نیٹ ورک نے ممبئی میں آئی پی ایل کی نئی فرنچائزی کے لیے ہونے والی نیلامی کے دوران حیدرآباد آئی پی ایل ٹیم کو خریدا ہے۔

بھارتی کرکٹ کنٹرول بورڈ یعنی بی سی سی آئی کا یہ فیصلہ آئی پی ایل کی گورننگ کونسل کی میٹنگ میں لیا گیا جس کے بعد بی سی سی آئی نے اس پر مہر لگائی۔

مارن برادر نے یہ ڈیل پچاسی اعشاریہ صفر پانچ کروڑ روپے سالانہ پر خریدا ہے۔ اس نیلامی کے بعد اب حیدر آباد آئی پی ایل ٹیم کا حیدر آباد میں رہنا تقریباً طے ہو گیا ہے۔

نیلامی کے دوران سن ٹی وی نیٹ ورک کے بعد دوسری سب سے اونچی بولی پی وی پی ونچرز نے انہتر اعشاریہ تین کروڑ روپے لگائی تھی۔

واضح رہے کہ حیدرآباد فرنچائزی کو سب سے پہلے سال دو ہزار آٹھ میں دکن كرونكلس ہولڈنگز نے پانچ سو باسٹھ کروڑ روپے میں خریدا تھا۔

نیلامی شروع ہونے سے قبل جے پی گروپ اور پی وی پی ونچرز کو سن ٹی وی نیٹ ورک سے آگے مانا جا رہا تھا، لیکن آخر میں بازی سن ٹی وی نیٹ ورک کے ہاتھ رہی۔

بی سی سی آئی نے نئی فرنچائزی کے لیے کچھ وقت پہلے ہی ٹنڈر جاری کیا تھا۔

آئی پی ایل کی گورنگ کونسل نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ سن ٹی وی نیٹ ورک نے اس نئی فرنچائزی ٹیم کے مالکانہ حقوق کو پچاسی اعشاریہ صفر پانچ کروڑ سالانہ کی شرح پر حاصل کیا ہے۔

بی سی سی آئی کے سیکرٹری سنجے جگدلے کے مطابق سن ٹی وی نیٹ ورک کی بولی سب سے زیادہ تھی، لہذا اسے ہی اس ٹیم کا مالکانہ حق سونپنے کا فیصلہ کیا گیا۔

واضح رہے کہ اسی ماہ کے اوائل میں دکن كرونكل ہولڈنگز لمیٹڈ نے ٹیم کے لیے نیا خریدار حاصل کرنے کے لیے ہندوستانی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) سے یہ کہتے ہوئے مدد طلب کی تھی کہ کمپنی مالی بحران سے دو چار ہے اور اس کے پاس ٹیم چلانے کے لیے پیسہ نہیں ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>