
بنگلور میں کھیلے جا رہے بھارت اور نیوزی لینڈ ٹیسٹ میچ کے دوسرے روز ورات کوہلی کی بدولت بھارتی ٹیم بھلے ہی لڑكھڑا كر سنبھل گئی ہو لیکن میچ کے دوران سچن جس طرح آؤٹ ہوئے اس نے ایک بار پھر ان کی عمر اور ریٹائر ہونے سے متعلق بحث چھیڑ دی ہے۔
بنگلور ٹیسٹ کے دوسرے روز اپنی پہلی اننگز میں سچن تندولکر ایک بار پھر ایک تیز گیند کو سمجھ نہیں پائے اور سترہ رن بنا کر بولڈ ہو گئے۔
اس دوران گواسکر اور سنجے ماجریكر كمینٹري کر رہے تھے اور اس مسئلے پر بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر سچن اس طرح سے بولڈ ہو رہے ہیں تو یہ اچھی علامت نہیں ہے۔
گواسکر نے کئی بار دوہرایا کہ سچن گیند کی رفتار کو پکڑ نہیں پا رہے ہیں اور اس طرح سے بولڈ ہونا یہ ظاہر کرتا ہے کہ ان کی بلے بازی پر عمر حاوی ہو رہی ہے۔
سچن کے ریٹائر ہونے سے متعلق سوال اٹھتے رہے ہیں۔ سچن نے ہمیشہ کہا ہے کہ فی الحال ان کا کھیل چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ابھی کھیل کا مزا لے رہے ہیں اور ریٹائرمنٹ لینے کا ان کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔
نیوزی لینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں بھی سچن کی اننگ انتہائی پھیکی رہی تھی۔ وہ انیس رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے تھے۔
بی بی سی کے نامہ نگار پنکج پريدرشي کے مطابق سچن کی پہلی اننگ اور دوسری اننگز کا کھیل یہ سوال تو ضرور اٹھاتا ہے کہ جس پچ پر دھونی اور کوہلی جیسے کھلاڑی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں اس پر سچن کوئی رنگ کیوں نہیں دکھا پا رہے۔ لیکن یہ یاد رہنا چاہیے کہ ہر کھلاڑی چاہے وہ بڑا کھلاڑی ہی کیوں نہ ہو ہر بار اچھا کھیل نہیں دکھا سکتا۔
لیکن راہول ڈراوڈ اور لکشمن جیسے کھلاڑیوں کے ریٹائرمنٹ لینے کے بعد سچن پر دباؤ بڑھا ہے اور اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔






























