بھارت-پاکستان کی نابینا کرکٹ ٹیمیں آمنےسامنے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, وندنا وجے
- عہدہ, بی بی سی، دلّی
بھارت ہو یا پاکستان کرکٹ ان ممالک میں کس قدر پسند کی جاتی ہے شاید یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔
دس مارچ سے بھارت کے شہر چینئی میں ان دو ممالک کی کرکٹ ٹیمیں کھیل کے میدان میں ایک بار پھر آمنے سامنے ہوں گی لیکن اس بار نابینا کھلاڑیوں کی کرکٹ ٹیمیں میدان پر جیت کی بازی لڑیں گے۔
بھارت سمیت دنیا کے کئی ممالک میں نابینا یا بلائنڈ کرکٹ کھیلی جاتی ہے۔ ویسے تو ان کھلاڑیوں کی آنکھوں میں تھوڑی بہت یا بالکل روشنی نہیں ہوتی لیکن حوصلے اور جذبے کی اگر بات کی جائے تو ان میں اس کی کوئی کمی نہیں ہے۔
بھارتی نابینا کرکٹ ٹیم کے کپتان شیکھر نائیک کی کہانی اس کی مثال ہے۔ غربت میں پلے اور بچپن میں ہی ماں باپ کا سایا سر سے اٹھ گیا۔ شیکھر نے اپنے نابینا پن کو کبھی اپنی کمزوری نہیں بننے دیا۔
ان کا کہنا ہے ’خاندانی حیثیت اچھی نہیں تھی۔ بچپن میں ہی والد کا انتقال ہوگیا۔ ماں نابینا ہوتے ہوئے بھی کھیتی کرکے گزر بسر کرتی تھیں۔ اسی دوران آپریشن کی وجہ سے مجھے تھوڑا بہت دکھائی دینے لگا۔ جب بھی بھارت اور پاکستان کا میچ ٹی وی پر آتا اور کھلاڑی چھکے لگاتے تھے تو مجھے بہت اچھا لگتا تھا۔ تب سے مجھے ہدف مل گیا کہ مجھے بھی کرکٹ کھیلنی ہے۔‘
اگرچہ پاکستان میں نابینا کرکٹ بھارت سے زیادہ مقبول ہے اور وہ موجودہ عالمی چیمپیئن ہے لیکن نابینا کھلاڑیوں کی جدوجہد کی داستان وہاں بھی بھارت کے شیکھر نائیک جیسی ہی ہے۔
پاکستان بلائنڈ کرکٹ کونسل کے چیئرمین سعید سلطان شاہ نابینا ہیں اور ماضی میں کرکٹ کھلاڑی تھے۔ وہ بتاتے ہیں ’میں نو سال کا تھا جب میری آنکھوں کی روشنی چلی گئی۔ میرے اور خاندان کے لیے اس سچائی کو قبول کرنا بہت مشکل تھا۔ لوگوں نے کئی طرح کی باتیں بنائیں کہ یہ کسی گناہ کا نتیجہ ہے۔ میرے والد ہر ڈاکٹر، حکیم، پیر، فقیر کے پاس گئے۔ ناامید ہوکر مجھے نابی
بچوں کے سکول میں داخل کرادیا گیا۔ یہ بھارت اور پاکستان کی تقیسم سے پہلے کا سکول تھا اور وہاں میں نے کرکٹ کھیلنا شروع کی۔ اس کے بعد میری زندگی ایسی بدلی کہ میں نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔‘
واضح رہے کہ نابینا کرکٹ نوے فی صد تو عام کرکٹ کے کھیل کی طرح ہی ہوتی ہے لیکن اس کے کچھ قاعدے الگ ہیں۔ اس کرکٹ میں گیارہ کھلاڑیوں میں کم از کم چار مکمل طور پر نابینا ہوتے ہیں جبکہ ون ڈے میچ چالیس اوورز کا ہوتا ہے اور ٹیسٹ میچ تین دن کا وغیرہ وغیرہ۔۔۔
بھارت، انگلینڈ، پاکستان سمیت کئی ممالک کے نابینا کھلاڑی اپنا نام روشن کر رہے ہیں۔ ان کھلاڑیوں کو بلائنڈ کرکٹ نے نہ صرف دولت دی ہے بلکہ شہرت بھی۔ ان کی آنکھوں میں روشنی بھلے ہی نہ ہو پر اپنی ہمت اور جذبے سے ان نابینا کھلاڑیوں نے اپنے جیسے دوسرے لوگوں کو راہ ضرور دکھائی ہے۔



