’جب تک ٹیم جیتے کوچ برقرار رہتا ہے‘

پچپن سالہ مدثر نذر اس وقت دبئی میں آئی سی سی کی گلوبل کرکٹ اکیڈمی کے کوچ ہیں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنپچپن سالہ مدثر نذر اس وقت دبئی میں آئی سی سی کی گلوبل کرکٹ اکیڈمی کے کوچ ہیں
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ابوظہبی

پاکستان کے سابق ٹیسٹ کرکٹر مدثر نذر کا کہنا ہے کہ پاکستانی کرکٹ میں کوچ کا مستقبل ہمیشہ سے ٹیم کی کامیابی پر انحصار کرتا ہے اور اس بات کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی کہ کوچ کا معاہدہ کتنے سال کا ہے۔

پاکستان کی جانب سے چھہتر ٹیسٹ اور ایک سو بائیس ایک روزہ میچ کھیلنے والے پچپن سالہ مدثر نذر اس وقت دبئی میں آئی سی سی کی گلوبل کرکٹ اکیڈمی کے کوچ ہیں۔

مدثر نذر نے بی بی سی کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا کہ اگر پاکستان کرکٹ بورڈ ڈیو واٹمور کو کوچ مقررکرنا چاہتا ہے تو وہ پی سی بی اور واٹمور دونوں کے لیے نیک تمنائیں رکھتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا ’مصیبت یہ ہے کہ جیسے ہی پاکستانی ٹیم دو تین میچز ہارتی ہے تو سابق ٹیسٹ کرکٹرز تنقید کا طوفان لے آتے ہیں۔ میڈیا شور مچانا شروع کردیتا ہے اور ساتھ ہی میچ فکسنگ کے الزامات بھی لگنا شروع ہوجاتے ہیں ان حالات میں کسی بھی کوچ کے لیے چار پانچ سال کا معاہدہ کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا‘۔

مدثر نذر نے کہا کہ اگر غیرملکی کوچ ٹیم کے لیے بہتر ہے تو اس کی تقرری میں کوئی برائی نہیں ہے۔ اس وقت انگلینڈ کے کوچنگ سٹاف میں بھی چار پانچ غیر برطانوی شامل ہیں۔

ان کے بقول اینڈی فلاور کے آنے سے انگلینڈ کی بیٹنگ ہی نہیں بلکہ پوری سوچ ہی تبدیل ہوگئی ہے اور وہ ایک جارحانہ انداز کی حامل ٹیم بن گئی ہے۔

اسی طرح مشتاق احمد کے ہونے سے ان کی بالنگ سوچ میں تبدیلی آئی ہے اور وہ پہلے جیسے قدامت پسند بولر نہیں رہے بلکہ اب جب وہ بالنگ کررہے ہوتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے ایشین بولرز بالنگ کر رہے ہیں۔

مدثر نذر نے کہا کہ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کی خبریں خوش آئند ہیں ہر کوئی چاہتا ہے کہ پاکستان میں بچے اور نوجوان اپنے سامنے ورلڈ کلاس کرکٹرز کو کھیلتا دیکھیں اور ان سے بہت کچھ سیکھیں لیکن یہ اتنا آسان نظر نہیں آتا۔